برطانیہ؛ سمندری دفاع کیلیے منفرد اور خودکار ہیلی کاپٹر کا کامیاب تجربہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
برطانیہ کی رائل نیوی نے سمندری دفاع کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنے پہلے فل سائز خودکار (بغیر پائلٹ) ہیلی کاپٹر کی کامیاب آزمائشی پرواز کا اعلان کر دیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بحریہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جدید فضائی پلیٹ فارم سمندر میں ابھرتے ہوئے خطرات، خصوصاً آبدوزوں کی نگرانی اور خطرناک عسکری کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
رائل نیوی کا کہنا ہے کہ "پروٹیئس" نامی یہ بغیر پائلٹ کا ہیلی کاپٹر جمعے کے روز ایک مختصر مگر کامیاب ٹیسٹ مشن مکمل کرنے میں کامیاب رہا۔
60 ملین پاؤنڈ کی لاگت سے تیار کیا گیا پروٹیئس ہیلی کاپٹر جدید سینسرز، خودکار کمپیوٹر سسٹمز اور ذہین سافٹ ویئر سے لیس ہے۔
اس کی یہ منفرد خصوصیات اسے اپنے اردگرد کے ماحول کا تجزیہ کرنے اور خود فیصلے کرنے کی حیران کن صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
اس جدید ہیلی کاپٹر کو آبدوز شکن آپریشنز، سمندری گشت، زیرِ آب اہداف کی نگرانی اور طویل دورانیے کے خطرناک مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ پروٹیئس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں مشنز انسانی عملے کو خطرے میں ڈالے بغیر انجام دیے جا سکیں۔
اس طرح پروٹیئس کو اپنے جسامت، صلاحیت اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اب تک کا سب سے جدید اور طاقتور نظام قرار دیا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ دفاعی نظام مستقبل میں نہ صرف برطانیہ بلکہ نیٹو اتحادی ممالک کے دفاع میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
یاد رہے کہ فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد یورپی ممالک نے اپنی دفاعی حکمت عملی پر ازسرِنو غور شروع کر دیا ہے۔
اس کے نتیجے میں دفاعی بجٹ میں اضافہ اور جدید عسکری ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس، بالخصوص گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ کے درمیان سمندری راستے، اس وقت اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
اسی تناظر میں امریکا کی جانب سے گرین لینڈ میں دلچسپی کو بھی انہی آبی راستوں کی نگرانی سے جوڑا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹر گیا ہے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔