مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر رہائشی علاقے میں گر کر تباہ؛ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
مغربی کنارے کے علاقے گوش اتزیون میں اسرائیلی فضائیہ کا فوجی ہیلی کاپٹر خوفناک حادثے کا شکار ہو گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب دوسرے ہیلی کاپٹر کی مدد سے اس خراب ہیلی کاپٹر کو منتقل کیا جا رہا تھا۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یانشوف ماڈل کا ہیلی کاپٹر منگل کے روز خراب موسمی حالات کے باعث اتزیون بریگیڈ سیکٹر میں ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا تھا۔
بعد ازاں جب اسے دوسرے ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تو ٹوئنگ کے لیے استعمال ہونے والے ہارنس اچانک الگ ہو گئے۔
תיעוד דרמטי - התרסקות הינשוף בגוש עציון:
מסוק הינשוף היה תקוע בשטח במשך מספר ימים, ואי אפשר היה להגיע לחלץ אותו באמצעות רכב מהיבשה.
באמצע טיסת החילוץ - הרתמות השתחררו. בחיל האוויר פתחו בתחקיר של… pic.twitter.com/N1b0kTDdpf — דורון קדוש | Doron Kadosh (@Doron_Kadosh) January 16, 2026
اسرائیلی فوج کے بقول اس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر فضا سے نیچے آ گرا اور اس میں آگ بھڑک اُٹھی۔ ہیلی کاپٹر میں کوئی شخص موجود نہیں تھا۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ حادثہ رہائشی علاقے میں پیش آیا اور گھروں سے چند میٹرز کے فاصلے پر گرا۔ جہاں کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔
ہیلی کاپٹر گرنے سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ پناہ لینے کے لیے کھلے میدان کی جانب دوڑے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر اچانک فضا میں ڈولتا ہوا نیچے گرتا ہے اور زمین سے ٹکرا جاتا ہے۔
اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر میجر جنرل ٹومر بار نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے فوجی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دے دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک