پاکستان، سعودی عرب اور یو اے ای سمیت 8ممالک کا فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پاکستان، سعودی عرب اور یو اے ای سمیت 8ممالک کا فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم WhatsAppFacebookTwitter 0 16 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے غزہ پٹی کے انتظام کے لیے تشکیل دی گئی نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔یہ کمیٹی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت ایک عبوری انتظامی ڈھانچے کے طور پر قائم کی گئی ہے، جو جامع امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے اور فلسطینی اتھارٹی کے تعاون سے کام کرے گی۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق کمیٹی کا قیام غزہ میں روزمرہ امور کے انتظام کو بہتر بنانے اور غرب اردن اور غزہ کے ادارہ جاتی و جغرافیائی ربط کو برقرار رکھنے کے لیے اہم قدم ہے۔آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ غزہ کی وحدت کو برقرار رکھنا اور اسے تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنا بنیادی اصول ہے، وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا بھی خیرمقدم کیا اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔مشترکہ بیان میں صدر ٹرمپ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی کوششوں سے غزہ میں جنگ کے خاتمے، اسرائیلی فوج کے انخلا، مغربی کنارے کے الحاق کی روک تھام اور خطے میں امن کے فروغ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
مشترکہ بیان میں جنگ بندی کو مضبوط بنانے، خلاف ورزیوں کے خاتمے اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا گیا، اس کے ساتھ ہی غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی کے ابتدائی اقدامات شروع کرنے اور فلسطینی اتھارٹی کی واپسی کا راستہ ہموار کرنے کی بھی اپیل کی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ دیرپا اور جامع امن کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں، عرب امن منصوبے اور دو ریاستی حل کے مطابق فلسطینی علاقوں سے قبضے کے مکمل خاتمے اور 1967 کی سرحدوں پر مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم نے اسلام آباد ،آزاد کشمیر اورجی بی کیلئے صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کر دیا وزیراعظم نے اسلام آباد ،آزاد کشمیر اورجی بی کیلئے صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کر دیا ہفتہ وارمہنگائی کی شرح میں 0.25فیصد اضافہ ،3.87فیصد تک پہنچ گئی پمز کے ڈاکٹرز کی ٹیم کی اڈیالہ جیل آمد، عمران خان کا طبی معائنہ کیا میری جعلی آواز میں لوگوں سے پیسے مانگے گئے، اسپیکر قومی اسمبلی کا انکشاف اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیئے گئے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نواز شریف نے بنوایا، جے یو آئی کا انکشاف
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش