بحران اور اپوزیشن لیڈر کی پریس کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260118-03-3
پاکستان آج ایک نہ ختم ہونے والے بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اور تمام سیاسی جماعتیں پانچ چھے نکات پر متفق ہیں۔ اس میں کوئی دور رائے نہیں ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور اجتماعی ویژن کی شدید کمی ہے۔ کراچی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کسی کے کہنے پر نہیں بنی اور نہ ہی کسی کی دشمنی میں تشکیل دی گئی۔ یہ عوام اور آئین کے تحفظ کے لیے ایک سنجیدہ اور خود مختار اقدام ہے۔ محمود خان اچکزئی کے بقول، پی ڈی ایم کے دور میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی کو ہٹانے میں شامل نہیں ہوں گے اور یہ موقف آج بھی ان کے سیاسی موقف کی وضاحت کرتا ہے کہ سیاسی عمل میں ذاتی ایجنڈے عوامی مفاد پر فوقیت نہیں رکھ سکتے۔ اس موقع پر اسد قیصر نے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھے نمائندے عوام کے لیے نہیں بیٹھے بلکہ عوام سے ووٹ کا حق چھینا گیا ہے۔ یہ سب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف سیاسی نظام میں خرابی ہے بلکہ اداروں کی آزادی بھی شدید حد تک محدود ہو چکی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے بھی کہی ہے کہ ’’قانون و آئین کی روشنی میں بھی یہ واضح ہے کہ حاکمیت کی اعلیٰ سطح اللہ تعالیٰ کی ہے اور کوئی فیصلہ قرآن و سنت کے منافی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا، کوئی بھی آئینی ترمیم جو اس بنیادی اصول سے ٹکراتی ہو، وہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ چاہے اس کے پیچھے کتنے ہی طاقتور لوگ ہوں، شریعت اور آئین کے مطابق یہ ترامیم بنیاد ہی سے غلط ہیں اور انہیں ختم ہونا چاہیے۔ قرآن و حدیث، سیرتِ رسولؐ اور خلفائے راشدین کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ کوئی بھی فرد، خواہ وہ کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، عدالت سے استثنیٰ حاصل نہیں کر سکتا‘‘۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے خلاف صرف اسی وقت بات کرتی ہیں جب ان کی سرپرستی ان سے ہٹ جاتی ہے، لیکن جب سرپرستی میں آتی ہیں یا سمجھوتا ہو جاتا ہے تو وہ اسے بہت عزیز سمجھنے لگتی ہیں۔ یہ نفاق پر مبنی طرزِعمل پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک عام رجحان بن چکا ہے اور اب اسے ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں سیاسی اتحادوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہم تمام سیاسی قوتوں سے گفتگو اور بات چیت کے حق میں ہیں۔ سیاست میں وضع داری اور رواداری ضروری ہیں۔ انتخابی نظام میں اصلاحات بھی اب وقت کی ضرورت ہیں۔ انتخابات کے نام پر وسیع پیمانے پر دھاندلی کی روک تھام کے لیے انتخابات ’متناسب نمائندگی‘ کے اصول پر ہونے چاہئیں۔ ’متناسب نمائندگی‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہر شہری کا ووٹ شمار ہو، اور سب کے ووٹوں کی بنیاد پر پارٹی کی پوزیشن واضح ہو۔ اس سے مقتدر طبقے کو مجبور ہونا پڑے گا کہ وہ اپنی پارٹیوں کو خاندانی غلامی سے نکالیں اور پارٹی کے پروگرام کی بنیاد پر چلائیں۔ مگر وہ یہ کام کرنے سے گریزاں ہیں، اس لیے عوامی دبائو کے ذریعے اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران کی بنیادی وجوہات میں نااہلی، بدانتظامی اور طاقتور عناصر کی مداخلت شامل ہیں۔ قومی اسمبلی میں اسد قیصر اور راجا ناصر عباس کے بیانات اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ عوامی نمائندگی اور آئینی حقوق مسلسل پس ِ پشت ڈالے جا رہے ہیں۔ میڈیا کی آزادی محدود ہو گئی ہے، ادارے سیاسی دباؤ کا شکار ہیں اور عوام کی رائے کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس تمام پس منظر میں تحریک تحفظ آئین پاکستان ایک مثبت اور ضروری قدم ضرور ہے، جو بظاہر عوام کے بنیادی حقوق اور آئین کی بالا دستی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے لیکن اب عوام کو اس طرح کی تحریکوں اور پریس کانفرنس کے مندرجات پر بہت زیادہ اعتماد نہیں رہا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں ہر سیاسی چھپے و کھلے عمل کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی قوت موجود ہے۔ پاکستان کی تقدیر عوام کے ہاتھ میں ہے۔ سیاسی مفاد، خاندانی کنٹرول، یا ذاتی ایجنڈے ملک کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔ آئین کی بالادستی کے بغیر کوئی سیاسی عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔ عوام کے تعاون اور ذمے داری کے بغیر پاکستان بحرانوں سے نکل نہیں سکتا اور یہی وہ نقطہ ہے جس پر آج سب کو متفق ہونا ہوگا۔ پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران محض جماعتوں کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ یہ نظامی، آئینی اور عوامی نمائندگی کے بحران کا نتیجہ ہے۔ آئین کی حفاظت کرنے اور شفاف سیاست کے راستے پر ہی چل کر ہی پاکستان بحرانوں سے نکل سکتا ہے اور ایک مستحکم، شفاف اور عوامی نمائندگی پر مبنی جمہوری نظام قائم ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں اور ا ئین اور عوام ا ئین کی عوام کے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز