ٹرمپ کا ایران سے متعلق مختلف آپشنز پر غور، فیصلہ کیا ہوگا کوئی اور نہیں جانتا: لیویٹ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے تمام آپشنوں کو کھلا رکھا ہے اور حتمی طور پر کیا فیصلہ ہو گا، یہ خود صدر کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ تصدیق کیے جانے کے بعد کہ انہوں نے فی الحال ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ مؤخر کر دیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی شدت میں نسبتاً کمی آئی ہے۔ تاہم، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان رابطے کے باوجود تناؤ بدستور برقرار ہے۔ ٹرم کے مطابق ایران نے 800 مظاہرین کو سزائے موت دینے کا عمل روک دیا ہے۔
ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے تمام آپشنوں کو کھلا رکھا ہے اور حتمی طور پر کیا فیصلہ ہو گا، یہ خود صدر کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ “وہ فیصلے کریں گے جو امریکا اور دنیا کے مفاد میں ہوں گے”، جیسا کہ ہفتے کے روز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا۔
ایرانی سفارت کاروں نے رواں ہفتے کے دوران امریکا کو ایران پر حملہ نہ کرنے پر آمادہ کرنے اور اس کے بجائے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔ عرب اور یورپی حکام کے مطابق، عباس عراقچی نے اس امید پر رابطہ کیا کہ عالمی اقتصادی فورم کے آغاز سے قبل سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ایک ملاقات طے ہو سکے، تاہم اس ملاقات کے انتظامات مکمل نہ ہو سکے۔
دوسری جانب، امریکی سیاسی اور فوجی حکام پہلے ہی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپشنز پر کام شروع کر چکے تھے، اور نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو جیسے اعلیٰ معاونین کی جانب سے غیر رسمی بریفنگز بھی دی جا رہی تھیں۔
اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے لہجے میں کچھ نرمی کی۔ جمعہ کے روز انہوں نے ایرانی حکام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سزائے موت کا عمل روک دیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کی تعداد 800 تک پہنچ چکی تھی۔ انہوں نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا “میں ایرانی قیادت کی جانب سے تمام مجوزہ سزائے موت کے فیصلے منسوخ کیے جانے (800 سے زائد) کو بہت سراہتا ہوں۔”
اس کے باوجود گذشتہ جمعرات کو امریکہ نے خطے میں مزید فوجی دستے بھیج دیے، جو اس بات کی علامت ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے موقف پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں اور ممکن ہے کسی اچانک حملے کا فیصلہ کر لیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ صدر ٹرمپ انہوں نے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔