data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے تمام آپشنوں کو کھلا رکھا ہے اور حتمی طور پر کیا فیصلہ ہو گا، یہ خود صدر کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ تصدیق کیے جانے کے بعد کہ انہوں نے فی الحال ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ مؤخر کر دیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی شدت میں نسبتاً کمی آئی ہے۔ تاہم، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان رابطے کے باوجود تناؤ بدستور برقرار ہے۔ ٹرم کے مطابق ایران نے 800 مظاہرین کو سزائے موت دینے کا عمل روک دیا ہے۔

ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے تمام آپشنوں کو کھلا رکھا ہے اور حتمی طور پر کیا فیصلہ ہو گا، یہ خود صدر کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ “وہ فیصلے کریں گے جو امریکا اور دنیا کے مفاد میں ہوں گے”، جیسا کہ ہفتے کے روز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا۔

ایرانی سفارت کاروں نے رواں ہفتے کے دوران امریکا کو ایران پر حملہ نہ کرنے پر آمادہ کرنے اور اس کے بجائے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔ عرب اور یورپی حکام کے مطابق، عباس عراقچی نے اس امید پر رابطہ کیا کہ عالمی اقتصادی فورم کے آغاز سے قبل سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ایک ملاقات طے ہو سکے، تاہم اس ملاقات کے انتظامات مکمل نہ ہو سکے۔

دوسری جانب، امریکی سیاسی اور فوجی حکام پہلے ہی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپشنز پر کام شروع کر چکے تھے، اور نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو جیسے اعلیٰ معاونین کی جانب سے غیر رسمی بریفنگز بھی دی جا رہی تھیں۔

اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے لہجے میں کچھ نرمی کی۔ جمعہ کے روز انہوں نے ایرانی حکام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سزائے موت کا عمل روک دیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کی تعداد 800 تک پہنچ چکی تھی۔ انہوں نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا “میں ایرانی قیادت کی جانب سے تمام مجوزہ سزائے موت کے فیصلے منسوخ کیے جانے (800 سے زائد) کو بہت سراہتا ہوں۔”

اس کے باوجود گذشتہ جمعرات کو امریکہ نے خطے میں مزید فوجی دستے بھیج دیے، جو اس بات کی علامت ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے موقف پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں اور ممکن ہے کسی اچانک حملے کا فیصلہ کر لیں۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ صدر ٹرمپ انہوں نے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل