data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260118-08-8
لاہور (نمائندہ جسارت)حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق اور ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے ARY چینل پر نشر ہونے والے ڈرامے ‘‘میری زندگی’’ میں شامل ایسے مندرجات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جو اسلامی اخلاقیات، خاندانی اقدار اور پاکستانی معاشرتی روایات کے صریح خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ ڈرامے میں ایک نام نہاد ٹرانس جینڈر کردار (جو بائیولوجیکل طور پر مرد ہے) کو خاندانی و فیملی کردار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو دانستہ طور پر معاشرے میں حیا، اخلاقیات، صنفی حدود اور اسلامی اقدار کے منافی تصورات کو نارملائز کرنے کی کوشش ہے۔ اس قسم کا مواد نہ صرف عوام کے مذہبی جذبات کو شدید مجروح کرتا ہے بلکہ پاکستان کے آئینی، اخلاقی اور سماجی تشخص سے بھی کھلی ٹکر رکھتا ہے۔ڈاکٹر حمیرا طارق اور ثمینہ سعید نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی نشریات PEMRA کے ضابطہ اخلاق اور ملکی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہپیمرا 2002آرڈیننس کے مطابق کوئی بھی لائسنس یافتہ چینل ایسا مواد نشر کرنے کا مجاز نہیں جو اخلاقیات، شائستگی، مذہبی و سماجی اقدار اور عوامی مفاد کے خلاف ہو۔الیکٹرونک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 اس امر کا پابند بناتا ہے کہ پروگرامز کا مواد پاکستانی معاشرتی و مذہبی حساسیت کے منافی نہ ہو اور کسی بھی قسم کے فکری یا اخلاقی بگاڑ کا باعث نہ بنے۔پیمرا رولز 2009 کے تحت ہر پروگرام اور اشتہار کا موادپیمرا آرڈیننس اور طے شدہ ضابطہ اخلاق کے عین مطابق ہونا لازم ہے۔انہوں نے اس قابلِ اعتراض اور گمراہ کن مواد پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وزارتِ مذہبی امور سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نہایت حساس اور اہم معاملے پر فوری نوٹس لے کر متعلقہ اداروں، بالخصوص پیمرا اور وزارتِ اطلاعات سے رابطہ کرے اور درج ذیل اقدامات یقینی بنائے ۔ڈراما ‘‘میری زندگی’’ میں شامل اخلاقی حدود سے متجاوز مواد کو فوری طور پر بند یا نشر ہونے سے روکا جائے۔ARY چینل کی انتظامیہ کو شوکاز نوٹس جاری کر کے قانون اور ضابطے کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔آئندہ اس نوعیت کے مواد کی روک تھام کے لیے واضح، سخت اور مؤثر ہدایات جاری کی جائیں اور مانیٹرنگ کا مربوط نظام فعال کیا جائے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ محض تفریح یا ڈراما سازی کا نہیں بلکہ ہماری نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت، خاندانی نظام کے تحفظ اور معاشرتی امن و اقدار سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ وزارتِ مذہبی امور پر لازم ہے کہ وہ اپنی آئینی اور اخلاقی ذمے داری ادا کرتے ہوئے فوری، واضح اور عملی اقدام اٹھائے۔مزید برآں ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی،ڈاکٹر زبیدہ جبیں ، عطیہ نثار ،عفت سجاد ، عائشہ سید (سابق ایم این اے )نے بھی اخلاقی اقدار کے منافی ڈرامے کی نشریات کو فوری بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی حلقہ خواتین ڈاکٹر حمیرا طارق لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہی ہیں

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ