ملک میں پارلیمنٹ کی آزادی سلب کی جا رہی ہے، جمعیت نظریاتی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اپنے بیان میں جے یو آئی نظریاتی کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور جمہوری اصولوں اور اقدار کی جنازہ نکل رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے مرکزی قائمقام امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سکرٹری مفتی شفیع و دیگر نے کہا کہ ملک میں پارلیمنٹ کی آزادی سلب کی جا رہی ہے۔ بے اختیار پارلیمنٹ کے باعث ملک آئینی، سیاسی اور معاشی بحران سے دوچار ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر غیر آئینی شرائط سے پارلیمنٹ میں آئین کی روح کو مسخ کر رہے ہیں۔ آئے دن ملک میں غیر آئینی اقدامات سے ملک کی اساس کو کمزور کیا جا رہا ہے، جو قوم و ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کے آزادانہ فیصلوں اور آئین کی بالادستی سے ملک میں ترقی و استحکام آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور جمہوری اصولوں اور اقدار کی جنازہ نکل رہا ہے۔ ملک کی موجودہ حالات پر غیر سنجیدگی کے باعث ملک کو ایک مضبوط نظام نہ مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد اور انصاف پر مبنی سوچ کو دفنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ حکمران غیر آئینی عمل کو سیاست میں مداخلت کے لئے راستہ فراہم کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ملک میں رہا ہے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔