پی ٹی اے کا بیرون ملک پاکستانیوں کیلیے بڑی سہولت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب تارکین وطن اپنی موبائل فون سروس میں تسلسل برقرار رکھ سکیں گے اور بیرون ملک قیام کے دوران ان کی پاکستانی موبائل فون سم بلاک نہیں کی جائے گی۔پی ٹی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد سمندر پار پاکستانیوں کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی موبائل سم کی ملکیت برقرار رکھ سکیں۔پی ٹی اے کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے متعلقہ موبائل کمپنی سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کو ضروری مواصلاتی سہولیات تک مسلسل رسائی حاصل رہے گی، جس سے ان کے لیے پاکستان سے رابطہ برقرار رکھنا آسان ہو جائے گا۔اتھارٹی کے مطابق پی ٹی اے بیرون ملک پاکستانیوں کو بااختیار بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور عالمی سطح پر ڈیجیٹل رابطوں کی توسیع کے لیے متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیرون ملک پی ٹی اے کے لیے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔