ٹرمپ کا گرین لینڈ کے حمایتی ممالک پر ٹیرف لگانے کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260118-08-22
واشنگٹن/پیرس (آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے‘ اگر دیگر ممالک نے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی حمایت نہ کی تو وہ ان پر تجارتی ٹیرف عاید کر سکتے ہیں۔ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت اور معدنی وسائل امریکا کے لیے ضروری ہیں‘ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر قبضہ نہ کیا تو قومی سلامتی
میں بڑا خلا پیدا ہو جائے گا، اس معاملے پر اِن کی ناٹو سے بات چیت جاری ہے۔ اس معاملے پر امریکی سینیٹر کرس کونز کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں دیے گئے زیادہ تر بیانات محض بیان بازی ہیں اور حقیقت میں گرین لینڈ ایک اتحادی ہے، کوئی جائداد نہیں۔ادھر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کر سکتے ہیں۔ ڈنمارک نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا بھی اعلان کیا ہے۔گرین لینڈ میں ڈنمارک کی جوائنٹ آرکٹک کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل سورن اینڈرسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی توجہ امریکا نہیں بلکہ ممکنہ روسی سرگرمیوں پر ہے، ناٹو اتحادیوں کے درمیان کسی فوجی تصادم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے گرین لینڈ جیف لینڈری نے اعلان کیا ہے کہ وہ مارچ میں گرین لینڈ کا دورہ کریں گے اور انہیں امید ہے کہ اس معاملے پر کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے تاہم ڈنمارک نے واضح مؤقف میں کہا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول ان کے لیے ’ریڈ لائن‘ ہے۔ علاوہ ازیں امریکی حملے کے خدشے کے تناظر میں ڈنمارک اور فرانس نے گرین لینڈ کی فضا میں مشترکہ فضائی مشقیں شروع کردیں۔ ڈنمارک کے ایف 35 لڑاکا طیاروں نے گرین لینڈ کی فضا میں پروازیں کیں، جبکہ فرانس کے ایم آر ٹی ٹی ٹینکر طیارے نے جنوب مشرقی گرین لینڈ کے اوپر ایندھن بھرنے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گرین لینڈ کے نے گرین لینڈ کہ گرین لینڈ کہا ہے کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔