گرین لینڈ تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کا برطانیہ، ڈنمارک اور یورپی ممالک پر اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر برطانیہ، ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک کے خلاف اضافی تجارتی ٹیرف عائد کرنے کے منصوبے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اقدام نیٹو اتحادی ممالک کے ساتھ امریکا کے تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ گرین لینڈ حاصل کرنے پر بضد، یورپی اتحادی ڈنمارک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے
امریکی صدر کے مطابق یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے امریکا بھیجی جانے والی تمام اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ یکم جون سے یہ شرح بڑھا کر 25 فیصد کر دی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیرف اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک گرین لینڈ کے مکمل اور حتمی حصول سے متعلق کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔
امریکی صدر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کئی برسوں سے ڈنمارک اور یورپی یونین کو ٹیرف نہ لگا کر مالی طور پر فائدہ پہنچاتا رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ڈنمارک اس کا جواب دے۔ ان کے مطابق عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں اور چین کی جانب سے گرین لینڈ میں دلچسپی صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے علاوہ کچھ بھی قابلِ قبول نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن میں مبصرین کے مطابق یہ اعلان حیران کن اس لیے بھی ہے کہ چند دن قبل امریکا اور ڈنمارک کے حکام کے درمیان ایک ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق ہوا تھا، جسے معاملے میں وقت حاصل کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم نئے ٹیرف نے اس تنازع کو فوری نوعیت دے دی ہے۔
برطانیہ کی حکومت حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ کے ساتھ محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے تھی، جس کے تحت بعض متنازع امریکی اقدامات پر تنقید سے گریز کیا گیا، تاہم یہ مؤقف واضح رکھا گیا کہ گرین لینڈ کا مستقبل وہاں کے عوام اور ڈنمارک کا حق ہے۔ اب امریکی اقدام کو برطانوی حکومت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس کا گرین لینڈ میں قونصل خانہ کھولنے کا اعلان، کیا یہ امریکا کے لیے کوئی ’خاموش پیغام‘ ہے؟
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کیے تھے اور لندن کو امید تھی کہ یہ خصوصی تعلقات برطانیہ کے حق میں جائیں گے، لیکن مجوزہ ٹیرف نافذ ہونے کی صورت میں ڈاؤننگ اسٹریٹ کی حکمت عملی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق صورتحال سے نمٹنے کے لیے سفارتی سطح پر ہنگامی مشاورت شروع کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ٹیرف دراصل درآمدی اشیا پر عائد کیے جانے والے ٹیکس ہوتے ہیں، جو عموماً اشیا کی قیمت کے تناسب سے وصول کیے جاتے ہیں، اور اس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہو جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news برطانیہ ٹیرف چین ڈنمارک ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ یورپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانیہ ٹیرف چین ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ یورپ ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔