Express News:
2026-06-02@22:39:20 GMT

تاجروں نے گل پلازہ کے باہر اذانیں دینا شروع کر دیں

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

کراچی:

شہر قائد کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف گل پلازہ میں رات گئے بھڑکنے والی خوفناک آگ تاحال مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکی، جس کے باعث شہر کی فضا سوگوار ہو گئی ہے۔

آگ کے نتیجے میں تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا جبکہ 5 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق تاحال آگ کے صرف 40 فیصد حصے پر قابو پایا جا سکا ہے، جبکہ آگ کی شدت برقرار ہے، شاپنگ پلازہ میں 1000 سے زائد دکانیں ہیں۔

عمارت میں پڑنے والی گہری دراڑوں کے باعث صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے اور فائربریگیڈ حکام نے متاثرہ عمارت کو خطرناک قرار دے دیا ہے۔

صورتحال کی سنگینی اور بڑھتے ہوئے خوف کے پیش نظر تاجروں نے گل پلازہ کے باہر کھڑے ہو کر با آوازِ بلند اذانیں دینا شروع کر دیں۔ اذانوں کی گونج نے پورے علاقے کو غم اور کرب میں مبتلا کر دیا، ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل لرزتا ہوا نظر آیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق آگ کے باعث عمارت کا اسٹرکچر شدید متاثر ہو چکا ہے، جبکہ ریسکیو ادارے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر آگ بجھانے اور زخمیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔

 

اس افسوسناک سانحے پر گورنر سندھ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، مصطفیٰ کمال، وزیراعلیٰ سندھ سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق