Express News:
2026-07-23@23:55:52 GMT

تاجروں نے گل پلازہ کے باہر اذانیں دینا شروع کر دیں

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

کراچی:

شہر قائد کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف گل پلازہ میں رات گئے بھڑکنے والی خوفناک آگ تاحال مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکی، جس کے باعث شہر کی فضا سوگوار ہو گئی ہے۔

آگ کے نتیجے میں تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا جبکہ 5 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق تاحال آگ کے صرف 40 فیصد حصے پر قابو پایا جا سکا ہے، جبکہ آگ کی شدت برقرار ہے، شاپنگ پلازہ میں 1000 سے زائد دکانیں ہیں۔

عمارت میں پڑنے والی گہری دراڑوں کے باعث صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے اور فائربریگیڈ حکام نے متاثرہ عمارت کو خطرناک قرار دے دیا ہے۔

صورتحال کی سنگینی اور بڑھتے ہوئے خوف کے پیش نظر تاجروں نے گل پلازہ کے باہر کھڑے ہو کر با آوازِ بلند اذانیں دینا شروع کر دیں۔ اذانوں کی گونج نے پورے علاقے کو غم اور کرب میں مبتلا کر دیا، ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل لرزتا ہوا نظر آیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق آگ کے باعث عمارت کا اسٹرکچر شدید متاثر ہو چکا ہے، جبکہ ریسکیو ادارے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر آگ بجھانے اور زخمیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔

 

اس افسوسناک سانحے پر گورنر سندھ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، مصطفیٰ کمال، وزیراعلیٰ سندھ سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع