راولپنڈی:

راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں سانحہ 9 مئی سے متعلق 11 مقدمات کی سماعت آج مقرر تھی، تاہم مختلف قانونی اور انتظامی وجوہات کے باعث کارروائی مکمل نہ ہو سکی۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ عدالت پہنچے، تاہم بعد ازاں وہ چھٹی پر چلے گئے، جس کے باعث سماعت 30 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

عدالت میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد پیش ہوئے، جبکہ سلمان اکرم راجا بھی انسدادِ دہشت گردی عدالت پہنچے۔ بانی چیئرمین تحریک انصاف کی حاضری اڈیالہ جیل سے جیل روبکار کے ذریعے لگائی گئی۔ آج بھی وڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل نہ ہو سکا، جبکہ چالان کی نقول تقسیم کرنے کا عمل جاری رہا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق 11 مقدمات میں جی ایچ کیو گیٹ نمبر 4 پر حملہ، آرمی میوزیم پر حملہ، صدر میں حساس عمارت کو نذر آتش کرنے، نیو ٹاؤن میٹرو بس اسٹیشن جلانے اور ڈبل روڈ پر حساس ادارے کے دفتر پر حملے جیسے سنگین مقدمات شامل ہیں۔ تاہم بانی چیئرمین پی ٹی آئی، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت بعض ملزمان کو تاحال چالان کی نقول فراہم نہیں کی جا سکیں۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت پر تمام مقدمات کے تمام ملزمان پیش ہوں۔

سلمان اکرم راجا کی عبوری ضمانت میں 3 فروری تک توسیع کر دی گئی ہے، جبکہ ان کے خلاف اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے اور ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج ہے۔ چالان کی نقول کی تقسیم کا عمل 30 جنوری کو بھی جاری رہے گا۔

عدالت کے باہر سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے ہاتھ جوڑ کر اپیل ہے لوگوں کی اپیلیں سنی جائیں، لوگ دو دو سال سے جیل میں ہیں اور کوئی اپیل نہیں سن رہا، دو دو سال سے جیل میں بند لوگوں کے گھروں میں قیامت ہے۔ لوگوں کے گھروں کو چولہے بجھ گئے اور مہنگائی تباہی کن ہوچکی۔

شیخ رشید نے کہا کہ بھاری جرمانوں و چالانوں سے آدھا شہر بند اور سیل ہے، آٹے کی قیمت آسمان تک چلی گئی اور بے روزگاری بڑھ گئی۔ جرمانے آدھے، مہنگائی اور بے روزگاری ختم کی جائے۔ اللہ اور رسول کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جیلوں میں پڑے لوگوں کی اپیلیں سنی جائیں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل چالان کی نقول

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا

اسلام آباد:

ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔

متعلقہ مضامین

  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا