لوگ پانی پی کر مر رہے ہیں یہ کیسی ترقی ہے، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہونے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر رہنما اور پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے سنیچر کو مدھیہ پردیش کے اندور میں آلودہ پانی سے قے اور اسہال کے پھیلنے کے بعد اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے ملاقات کی۔ اس موقعے پر انہوں نے حکومت پر اپنی بنیادی ذمہ داری کو پورا نہ کرنے اور لوگوں کو ڈرانے کا الزام لگایا۔ راہل گاندھی آج صبح تقریباً 11 بجے اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے کے رہائشیوں سے ملاقات کی جہاں مبینہ طور پر آلودہ پانی کی وجہ سے گذشتہ ایک ماہ میں 24 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔
اندور پہنچنے کے فوراً بعد راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جتیندر (جیتو) پٹواری کے ساتھ بمبئی اسپتال کا دورہ کیا اور وہاں آلودہ پانی سے متاثرہ افراد کی صحت دریافت کی۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ راہل گاندھی نے بمبئی اسپتال میں زیر علاج چار مریضوں کی عیادت کی، ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اپوزیشن لیڈر نے متاثرہ علاقہ بھاگیرتھ پورہ کا بھی دورہ کیا اور مرنے والوں کے اہل خانہ سے بات چیت کی، تعزیت کا اظہار کیا اور انہیں تسلی دی۔
بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے اپنی "ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہونے" پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی سے متاثر لوگوں سے ملاقات کی۔ متعدد خاندان کے کئی افراد کی موت ہوچکی ہے اور بہت سے لوگ شدید بیمار ہیں، بڑے بڑے دعوے کئے جا رہے تھے کہ وہ (حکومت) ملک کو سمارٹ سٹیز دیں گے، یہ ایک سمارٹ سٹی کا نیا ماڈل ہے جہاں پینے کا پانی نہیں ہے اور لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ صاف پانی عوام کا حق ہے لیکن افسوس کہ بی جے پی حکومت عوام کو صاف پانی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، حکومت کا یہ رویہ انتہائی غیر حساس ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا، ہم بھاگیرتھ پورہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم قصورواروں کو سزا دلانے اور متاثرین کے لئے انصاف کو یقینی بنانے کے لئے لڑتے رہیں گے۔
بھاگیرتھ پورہ میں پریس کانفریس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ میں نے ابھی متاثرین کے خاندانوں سے ملاقات کی ہے۔ ان خاندانوں میں اموات ہوئی ہیں، لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے، آلودہ پانی پینے سے پورے خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ اندور میں صاف پانی دستیاب نہیں ہے اور لوگ آلودہ پانی پی کر مر رہے ہیں، یہ کیسا اربن ماڈل ہے، یہ صرف اندور میں نہیں ہے، ایسا کئی شہروں میں ہو رہا ہے، صاف پانی حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت یہ سب ذمہ داری نہیں نبھا رہی ہے۔ یہاں جن لوگوں نے سب سب کیا ہے، ان میں کوئی تو حکومت میں ذمہ دار ہوگا، کوئی نہ کوئی ذمہ داری سرکار کو لینی چاہیئ۔
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ آج بھی یہاں صاف پانی نہیں ہے، میں یہاں سیاست کرنے نہیں آیا ہوں، میں اپوزیشن لیڈر ہوں، لوگوں کی موت ہوئی ہے، لوگوں صاف پانی نہیں ملا تو مدد کرنے آیا ہوں۔ انہوں نے بھاگیرتھ پورہ کو جدید دور کا سمارٹ سٹی قرار دیتے ہوئے طنز کیا۔ اسمارٹ سٹی ماڈل پر سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس لیڈر نے حکومت پر الزام لگایا کہ یہاں جب لوگ انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں تو لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے۔ بامبے اسپتال سے بھاگیرتھ پورہ پہنچنے پر راہل گاندھی نے اعلان کیا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کریں گے۔ انہوں نے مرنے والوں کے لواحقین کو ایک ایک لاکھ روپے کی مدد دینے کا اعلان کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے سے ملاقات کی آلودہ پانی انہوں نے لوگوں کو صاف پانی نہیں ہے کیا اور کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔