امریکی جریدے کی بھارت پر کڑی تنقید، سندھ طاس معاہدے پر پاکستانی مؤقف کی بھرپور حمایت
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کر دی ہے۔ جریدے کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد جنوبی ایشیا میں پانی کی سیاست نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جو خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔
دی نیشنل انٹرسٹ کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی نہ صرف علاقائی تنازعات کو بڑھائے گی بلکہ جنوبی ایشیا میں پانی کے بحران کو بھی شدید کر سکتی ہے، جو ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ جریدے نے بھارت کے دُلہستی اسٹیج۔II منصوبے کو سندھ طاس معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پانی کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق بھارت کی جانب سے آبی ڈیٹا کی فراہمی روکنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دی نیشنل انٹرسٹ نے یاد دلایا کہ عالمی ثالثی عدالت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں فوڈ سیکیورٹی کی بنیادی ضمانت ہے اور بھارت پر قانونی طور پر لازم ہے کہ وہ مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کو فراہم کرے۔ جریدے نے زور دیا کہ پانی کو ہتھیار بنانے کی بھارتی کوششیں عالمی عدالتوں اور بین الاقوامی قانون کی نظر میں ناقابل قبول ہیں۔
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق اگر بھارت نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو خطے میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ انسانی بحران کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے، جس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے جنوبی ایشیا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :