قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق
اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان سے لڑنا عوام کا کام ہے، این سی اے کے دورے پر گفتگو
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا۔نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ نیشنل کالج آف آرٹس ایک بہترین یونیورسٹی ہے ۔ این سی اے نے قومی سطح پر شہرت حاصل کر لی ہے، جس کے طلبہ بہت کچھ حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں کے نوجوان طلبہ ریسرچ کے بعد کام کرتے ہیں جو تخلیقی ہوتا ہے۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ضرور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس میں آگ نہ لگائی جائے اور جانوں کا ضیاع نہ ہو۔ توڑ پھوڑ، ڈنڈوں اور بندوقوں کی موجودگی تشویش کا باعث بنتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو اسے گفتگو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں عدلیہ اور ججز کے کردار پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسی طرح افواج پاکستان کے خلاف بات بھی نہیں کرنے دی جائے گی اور صرف اسی گفتگو کی اجازت ہو گی جو آئین کے دائرے میں ہو۔سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم پاکستان سے مشاورت کرتے ہیں اور وزیر اعظم انہیں کسی چیز سے نہیں روکتے۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم جو کوئی بھی پاکستان کے خلاف بات کرے گا اسے اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہوتی جا رہی ہے ۔ زرمبادلہ کے ذخائر 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امریکا، چین، روس، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان سے لڑنا عوام کا کام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سردار ایاز صادق انہوں نے کہا کہ کی اجازت نہیں قومی اسمبلی پاکستان کے دی جائے گی ہیں اور
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز