مردان جیل کے قیدی ہنر سیکھنے کے ساتھ ساتھ کمائی بھی کرنے لگے، مگر کیسے؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی سینٹرل جیل مردان میں ایک جدید ماربل فیکٹری قائم کی گئی ہے، جہاں درجنوں قیدی باقاعدہ طور پر کام کررہے ہیں۔
اس فیکٹری سے حاصل ہونے والے منافع کا 30 فیصد حصہ قیدیوں کو دیا جاتا ہے، جس سے انہیں نہ صرف مالی سہارا ملتا ہے بلکہ وہ ایک ہنر بھی سیکھتے ہیں جو رہائی کے بعد ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
دوسری جانب یہ فیکٹری جیل انتظامیہ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، جہاں سے جیل کو سالانہ لاکھوں روپے کا منافع حاصل ہو رہا ہے۔
صوبے میں جیلوں کے اندر اس نوعیت کا یہ پہلا اقدام ہے، جو قیدیوں کی اصلاح اور خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ مزید جانیے ابوبکر کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جیل انتظامیہ روزگار قیدی مردان جیل ہنر وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جیل انتظامیہ روزگار مردان جیل وی نیوز
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔