نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے، آج نہیں توکل مزید صوبے بنانے ہی پڑیں گے: مصطفی کمال
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے، آج نہیں توکل مزید صوبے بنانے ہی پڑیں گے: مصطفی کمال WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز
کراچی (آئی پی ایس )وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیا ہے۔کراچی کے علاقے جیکب لائن میں ہیلتھ کیئر ڈیجیٹل سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج نہیں تو کل ملک میں انتظامی معاملات بہتر کرنے کے لیے صوبے بنانے ہی پڑیں گے، لیکن صوبے بنانے کے باوجود نچلی سطح تک اختیارات دینا بھی لازم ہوگا۔
مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کا مسئلہ صرف علاج نہیں بلکہ ناقص نظام اور بڑھتی آبادی ہے جس کی وجہ سے اسپتالوں پر دبا بڑھتا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال 61 لاکھ سے زائد بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے مگر 4 لاکھ بچے آج بھی ویکسین سے محروم ہیں۔وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ماں اور بچے کی صحت پر توجہ نہ دینے کے باعث 40 فیصد بچے اسٹنٹڈ گروتھ کا شکار ہیں، جب تک ملک میں فرٹیلیٹی ریٹ 2 فیصد پر نہیں آئیگا تب تک ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجنید صفدر نے شادی میں کس ڈیزائنر کے کپڑے پہنے؟دلچسپ تفصیلات سب نیوز پر جنید صفدر نے شادی میں کس ڈیزائنر کے کپڑے پہنے؟دلچسپ تفصیلات سب نیوز پر طالبان رجیم کی حکمرانی سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا، بین الاقوامی جریدہ سی ڈی اے کے زیرِ اہتمام کمیونٹی آرگینک مارکیٹ کا کامیاب انعقاد چیئرمین سینیٹ و دیگر اہم شخصیات کی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت ٹرمپ نے کن 2 مسلم سربراہان کو غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی؟ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے ٹیم بھارت نہیں بھیجیں گے، بنگلادیش اپنے موقف پر ڈٹ گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ مصطفی کمال سب نیوز
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔