بنگلادیش کا بھارت جانے سے انکار، آئی سی سی کا وفد بی سی بی کو منانے کیلیے ڈھاکا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو منانے کے لیے اپنا وفد بنگلادیش بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کا وفد بنگلادیش کے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہ کھیلنے سے متعلق فیصلے پر بات چیت کے لیے اس ہفتے کے آخر میں ڈھاکا جائے گا۔
آئی سی سی وفد بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی قیادت سے ملاقات کرے گا اور سیکیورٹی سے متعلق تفصیلات کے ساتھ ایک آزاد رسک اسیسمنٹ رپورٹ پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یہ دونوں فریقین کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہوگی، اس سے قبل تمام بات چیت ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوتی رہی ہے۔
بی سی بی نے حال ہی میں ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کیا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث وہ ٹیم کو بھارت بھیجنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
مزید پڑھیںورلڈکپ تنازعہ: بنگلادیش اور بھارت کا معاملہ مزید بگڑنے کا خدشہ
13 جنوری کو ہونے والی ورچوئل میٹنگ میں بنگلادیش نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے میچز بھارت سے باہر منتقل کیے جائیں، تاہم آئی سی سی نے ٹورنامنٹ کے آغاز میں کم وقت باقی ہونے کی وجہ سے شیڈول میں تبدیلی سے انکار کردیا۔
بنگلادیش کا پہلا میچ 7 فروری کو کولکتہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شیڈول ہے۔
ایک نجی سیکیورٹی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کھیلنے والی ٹیموں کو مجموعی طور پر درمیانے درجے کے خدشات لاحق ہیں، تاہم کسی بھی ٹیم کے خلاف براہِ راست خطرے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
آئی سی سی کا دعویٰ ہے کہ یہ خطرات عالمی معیار کے مطابق معمول کے زمرے میں آتے ہیں اور میچز کی منتقلی کی وجہ نہیں بنتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔