مہنگائی کے اثرات کسی صورت عوام تک پہنچنے نہیں دینگے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) پنجاب میں سرکاری سطح پر معیاری اورسستی ترین اشیاء کی ہوم ڈیلیوری کا پہلا اور بے مثال پراجیکٹ ہے۔ مریم نواز کے فری ہوم ڈیلیوری پراجیکٹ نے عوامی خدمت کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ پنجاب کے35 شہروں کے 46 سہولت بازاروں سے فری ہوم ڈیلیوری جاری ہے۔ عوام کو گھر کی دہلیز پر تین لاکھ 12ہزار سے زائد آرڈرز کی ڈیلیوری کامیابی سے مکمل ہوگئی ہے۔ پنجاب سہولت بازار اتھارٹی فری ہوم ڈیلیوری پراجیکٹ کے ذریعے 13 اشیائے خورد ونوش کی فراہمی جاری ہے۔ پی ایس بی اے فری ہوم ڈیلیوری کے لئے13 بنیادی اشیائے خورد ونوش کے نرخ ڈی سی نوٹیفائیڈ ریٹ سے بھی کم مقرر کئے گئے ہیں۔ عوام کو ہوم ڈیلیوری پراجیکٹ کے تحت ڈی سی ریٹ 7 فیصد تک کم نرخ پر 13 اشیائے خورد ونوش ملنے لگے۔ گوگل پلے سٹور اور ایپل پر فری ہوم ڈیلیوری کی ایپ کے ذریعے آرڈر کرنے کی سہولت حاصل ہے۔ پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کے رائیڈر فری ہوم ڈیلیوری ایپ پر آرڈر گھر گھر پہنچاتے ہیں۔ عوام کو فری ہوم ڈیلیوری ایپ کے استعمال پر سات فیصد تک بچت اور ڈیلیوری بھی فری ہو گی۔ فری ہوم ڈیلیوری کے ذریعے آلو، پیاز، ٹماٹر، کدو، لہسن، سیب، کیلا، کھجور، لیموں، امرود اور تربوز آرڈر کیے جا سکتے ہیں۔ سہولت بازار فری ہوم ڈیلیوری کے ذریعے دال چنا، بیسن، آٹا اور چینی بھی آرڈر کی جا سکتی ہے۔ سی ایم فری ہوم ڈیلیوری پراجیکٹ کے ذریعے شہریوں کو گھر بیٹھے 110ملین روپے کی بچت ہوئی ہے۔ عوام نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سستی اور معیاری اشیائے خوردونوش کی گھر کی دہلیز پر فراہمی بے مثال ہے۔ مریم نواز نے کہاکہ مہنگائی کے اثرات کسی صورت عوام تک نہیں پہنچنے دیں گے یہ ہمارا عزم ہے۔ فری ہوم ڈیلیوری پراجیکٹ کادائرہ کار بتدریج پنجاب کے دیگر شہروں تک بڑھائیں گے۔ دوسری جانب مریم نواز نے خاران میںدہشتگردوں کے حملے ناکام بنانے پر تشکر کا اظہار کیا ہے۔ بہادر سکیورٹی فورسز کو سلام پیش کیا۔ وزیراعلیٰ نے سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔