ن لیگ کا دیا گیا جمہوریت دشمن بلدیاتی قانون کسی صورت قبول نہیں،حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام سے خوفزدہ نون لیگ نے جمہوریت دشمن بلدیاتی قانون متعارف کرایا، جماعت اسلامی اس کالے قانون کو تسلیم کرتی ہے نہ اس کے تحت انتخابات ہونے دے گی۔ بلدیاتی قانون پر عوامی ریفرنڈم نے صوبے کے عوام کو بیدار کردیا ، بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کی جدوجہد میں مزید تیزی آئے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل آباد گھنٹہ گھر چوک میں ریفرنڈم کیمپ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر فیصل آباد محبوب الزماں بٹ اور صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی بھی اس موقع پر موجود تھے۔4 روزہ عوامی ریفرنڈم کے تیسرے روز مردو و خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا۔ صوبے کے تمام اضلاع میں قائم ہزاروں پولنگ کیمپس پر جوش و خروش اور گہما گہمی کا سلسلہ جاری رہا۔ اتوار کی شام کو 4روزہ ریفرنڈم کا اختتام ہوگا جس کے بعد نتائج کا اعلان ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ نتائج کی روشنی میں جماعت اسلامی آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی، پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا اور کالے قانون کی واپسی تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد میں مزید تیزی آئے گی۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی قانون میں لاہور کو 9 اور فیصل آباد کو5 حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، پنجاب پر قابض شریف خاندان بااختیار میئر سے بھی خوفزدہ ہے، حکمران سیاسی پارٹیاں عوام تو کْجا اپنی پارٹیوں کے کارکنوں کو بھی اختیار نہیں دینا چاہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بلدیاتی قانون میں غیرجماعتی انتخابات تجویز کیے گئے ہیں، یونین کونسل کا چیئرمین بھی عوام کے براہ راست ووٹ سے منتخب نہیں ہوگا۔ آئین میں بااختیار بلدیاتی حکومتوں کی بات کی گئی ہے تاہم صوبائی حکومتیں اس سے منحرف ہیں، پنجاب میں گزشتہ 10 برس سے بلدیاتی انتخاب نہیں ہوا۔ اختیارات پر افسرشاہی قابض ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ملک آزاد ہونے کے باوجود بھی انگریز کی عطا کردہ افسرشاہی کے شکنجے میں ہے۔ عوام کے منتخب نمائندوں کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا لیکن ہاری ہوئی نشست قبول کرلی، صوبائی اسمبلی کی نشست پر شکست کے باوجود ان کی بیٹی وزیراعلیٰ اور قومی اسمبلی کی نشست پر ہارنے کے باوجود ان کے بھائی وزیراعظم بن گئے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی بھی سیاسی پارٹی عوام کو بااختیار بنانے کی بات نہیں کرتی۔ جماعت اسلامی پنجاب میں ن لیگ کی اجارہ داری چیلنج کررہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اپنے حق کے حصول اور بااختیار بلدیاتی حکومتوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم میں بھرپور انداز میں رائے کا اظہار کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے بلدیاتی قانون جماعت اسلامی فیصل ا باد کا اظہار
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔