Jasarat News:
2026-06-02@23:40:48 GMT

عائشہ قذافی بنام ایرانی عوام

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260118-03-5

 

عارف بہار

ایران میں جین زی کے جذبات اور ضروریات مسائل اور خواہشات ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔ نئی نسل کی بدلتی ہوئی ترجیحات کو نظام کے اندر نہ سمونے اور اس کے جذبات کے ساتھ ہم آہنگ نہ کرنے کی روش نے ایرانی نظام کو بار بار یہ دن دکھلائے ہیں کہ ہر سال دو سال بعد وہاں عوام باہر نکل آتے ہیں اور مدتوں سے ایران میں رجیم چینج کے خواہش مند گدھ بن کر حالات کے اوپر منڈلانے لگتے ہیں۔ ایران میں حکومت اور نظام پر علما کا غلبہ ہے اور علماء خبط ِ عظمت کی روایتی عادت کے باعث نئی نسل کی آوازوں کو سننے اور ان پر دھیان دینے سے گریز کرتی ہے۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ایران عالمی قوتوں کے نشانے پر ہے وہ اس پہلو سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اس بار تو ایران میں رجیم چینج کا پکا بندوبست کر لیا گیا تھا۔ رجیم چینج کا یہ اسٹائل نیا نہیں ماضی میں کئی ملکوں میں یہ انداز اپنا کر امریکا نے ناپسندیدہ چہروں سے نجات حاصل کی ہے۔ رضا پہلوی ایران کے لیے مغرب کا مستقل پوسٹر بوائے ہیں۔ جونہی ایران میں نئی نسل بے چین ہو کر سڑکوں کا رخ کرتی ہے تو یہ پوسٹر بوائے چابی والے کھلونے کی طرح بولنے لگتا ہے۔ کبھی دیوار گریہ پر ماتھا ٹیکتے ہوئے تو کبھی کتے اْٹھائے اس کی تصویریں منظر عام پر آتی ہیں۔ کسی انٹرویو میں وہ ایران پر اسرائیل کے حملوں کو سند جواز عطا کرتا ہے تو کہیں اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی حمایت کرتا ہے اور کہیں ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کی یقین دہانیاں کراتا پھرتا ہے۔ یوں پچھلے چند برسوں سے ایران میں بے چینی کی اْٹھنے والی ہر لہر کے دوران متبادل قیادت کے طور رضاپہلوی ہمہ وقت موجود ہوتا ہے۔ اس سب کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ یہ گنجائش رکھتے ہیں کہ ایران میں حکومت تو بدل جائے گی مگر ایران کے عوام رضاپہلوی کو قبول کرتے ہیں یا نہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

گویاکہ ٹرمپ اپنا سب کچھ رضا پہلوی جیسے غیر مقبول کردار کے لیے داؤ پر نہیں لگانا چاہتے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایرانی عوام کو دکھایا تو رضا پہلوی جارہا ہو مگر اندر سے کچھ اور ہی برآمد ہو۔ مغرب اس طرح کا ہاتھ افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ اور مصر کے راہنما محمد البرادی کے ساتھ کر چکا ہے۔ امریکا اور ناٹو نے افغانستان میں بمباری کرکے ملا عمر کی حکومت ختم کی تو جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ظاہر شاہ برسوں سے اس امید پر جی رہے تھے کہ جب افغان مجاہدین کامیاب ہوں گے تو امریکا مجاہدین کی وضع قطع اور ذہنی سوچ ساخت کے باعث انہیں حکمران کے طور پر قبول نہیں کرے گا اور یوں قرعہ ٔ فال خود ان کے نام نکلے گا۔ افغانستان میں رجیم چینج ہوئی تو ظاہر شاہ کو جرمنی کے ڈیپ فریزر سے نکال کر واپس تو لایا گیا مگر وہ کسی عجائب خانے میں پڑی نادر ونایاب شے بن کر رہے اور افغانستان پر حکمرانی کا قرعہ حامد کرزئی کے نام نکلا۔ اسی طرح مصر میں محمد مرسی کے خلاف رجیم چینج مہم کا پوسٹر بوائے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے نمائندے محمد البرادی تھے۔ محمد البرادی نے خود کو متبادل حکمران کے طور پر پیش کرکے محمد مرسی کے خلاف ایک منظم مہم کی بظاہر قیادت کی۔ محمد البرادی وہی شخصیت تھی جو امریکا کے اشارے پر ہر دوسرے روز عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش کے نام پر بغداد میں آدھمکتے تھے۔ محمد مرسی کی حکومت کا تختہ تو اْلٹا دیا گیا مگر اقتدار کا ہما البرادی کے کندھے پر بھی نہ بیٹھا اور پردے کے پیچھے بیٹھے ہوئے کرداروں نے خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ ایران میں رجیم چینج ہو بھی جاتی تو عین ممکن تھا کہ یہی کچھ رضا پہلوی کے ساتھ بھی ہوتا۔

ایران میں انسانی حقوق جمہوریت، آزادیٔ اظہار خواتین کے حقوق کی باتوں نے مغرب کی کئی تضاد بھری کہانیاں یادوں کی لوح پر تازہ کردیں۔ جناب ِ ٹرمپ کے ان دعوؤں کو سن کر لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کی صاحبزادی عائشہ قذافی کی یادوں کے زخم بھی ہرے ہوئے۔ انہوں نے ایرانی عوام کے نام ایک کھلے خط کی صورت میں اپنے بھیانک مشاہدات اور تجربات کا نچوڑ پیش کیا۔ ان کے والد معر قذافی جو مدتوں تک امریکا کے ساتھ ایک کشمکش کی کیفیت میں رہے کس طرح مغرب کے دام ِ فریب کا شکار ہو کر تخت وتاج ہی سے نہیں اپنی زندگی سے بھی محروم ہوئے۔ عائشہ قذافی بحرین میں جلاوطنی کے دن گزار رہی ہیں۔ ایرانی عوام کے نام اپنے خط میں انہوں نے امریکا کی منافقانہ حکمت عملی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوں ہمت اور آزادی پر نثار ہونے والے ایرانی عوام کے نام؛ اس حال میں کہ دل تباہی غم اور دکھ سے بوجھل ہے۔ اے اہل ایران میں آپ سے مخاطب ہوں۔ میں ایک دکھوں کی ماری کھلے دشمنوں نہیں، جس کے وطن کو مغربی ملکوں نے مسکراہٹوں اور وعدوں سے تباہ کر ڈالا۔ آپ کو میں انتباہ کرتی ہوں کہ مغربی ملکوں کے دل فریب وعدوں میں نہ آنا۔ میرے والد گرامی معمر قذافی سے انہوں نے کہا تھا اگر آپ اپنے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو محدود اور ترک کریں گے تو ہم کھلے بازوؤں سے آپ کا خیر مقدم کریں گے۔ مکالمے اور خیر سگالی کے آرزو مند میرے والد نے ان پر اعتماد کر لیا اور پھر ہم نے بمبار طیاروں سے اپنے وطن کی خاک اْڑتے دیکھی۔ لیبیا خون میں نہلایا اس کے بیٹے اور بیٹیاں جلاوطن ہوئے بھوکے رہے اور انہیں کھنڈرات نصیب ہوئے۔ اے میرے ایرانی بھائیو اور بہنو مغرب کی اقتصادی پابندیوں کے ہنگام آپ کی شجاعت اور صبر وہمت آپ کی آزادی اور قومی وقار سے حقیقی محبت کے مظہر ہیں۔ دشمن کو رعایت دینے کا مطلب ہے تقسیم تباہی اور اذیت۔ بھیڑیوں سے بات چیت امن عطا نہیں کرتی۔ بس تھوڑی سی مہلت اور اس کے بعد المناک موت۔

عائشہ قذافی کے والد معمر قذافی اور ان کے شوہر کو ان کے سامنے قتل کیا گیا تھا اور انہیں ایک بچے کے ساتھ کسمپرسی کے عالم میں ترکی میں پناہ لینا پڑی تھی۔ مغرب کی پالیسیوں ان کے تزویراتی پھندوں پر بھروسا کرنے والے سب حکمرانوں کے لیے اس پیغام میں ایک سبق ہے۔ اسی طرح ایران خواتین کے حقوق کی خاطر ہلکان ہونے والے مغربی اداروں اور حکمرانوں کے بارے میں فاطمہ بھٹو کا ایک تبصرہ ٹویٹر پر وائرل ہے جس میں وہ کہتی ہیں جو لوگ ایران میں عورتوں سے حجاب اْتارنے کے لیے احتجاجی مظاہرے منعقد کرتے ہیں مگر جب وہ غزہ کی عورتوں کے بارے میں خاموش رہتے ہیں تو میں انہیں فیمنسٹ نہیں پروپیگنڈسٹ کہتی ہوں۔

 

عارف بہار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں رجیم چینج محمد البرادی ایرانی عوام عائشہ قذافی رضا پہلوی ایران میں ایران کے کہ ایران کے ساتھ اور ان کے نام ہے اور کے لیے

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار