Jasarat News:
2026-07-24@05:05:42 GMT

عائشہ قذافی بنام ایرانی عوام

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260118-03-5

 

عارف بہار

ایران میں جین زی کے جذبات اور ضروریات مسائل اور خواہشات ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔ نئی نسل کی بدلتی ہوئی ترجیحات کو نظام کے اندر نہ سمونے اور اس کے جذبات کے ساتھ ہم آہنگ نہ کرنے کی روش نے ایرانی نظام کو بار بار یہ دن دکھلائے ہیں کہ ہر سال دو سال بعد وہاں عوام باہر نکل آتے ہیں اور مدتوں سے ایران میں رجیم چینج کے خواہش مند گدھ بن کر حالات کے اوپر منڈلانے لگتے ہیں۔ ایران میں حکومت اور نظام پر علما کا غلبہ ہے اور علماء خبط ِ عظمت کی روایتی عادت کے باعث نئی نسل کی آوازوں کو سننے اور ان پر دھیان دینے سے گریز کرتی ہے۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ایران عالمی قوتوں کے نشانے پر ہے وہ اس پہلو سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اس بار تو ایران میں رجیم چینج کا پکا بندوبست کر لیا گیا تھا۔ رجیم چینج کا یہ اسٹائل نیا نہیں ماضی میں کئی ملکوں میں یہ انداز اپنا کر امریکا نے ناپسندیدہ چہروں سے نجات حاصل کی ہے۔ رضا پہلوی ایران کے لیے مغرب کا مستقل پوسٹر بوائے ہیں۔ جونہی ایران میں نئی نسل بے چین ہو کر سڑکوں کا رخ کرتی ہے تو یہ پوسٹر بوائے چابی والے کھلونے کی طرح بولنے لگتا ہے۔ کبھی دیوار گریہ پر ماتھا ٹیکتے ہوئے تو کبھی کتے اْٹھائے اس کی تصویریں منظر عام پر آتی ہیں۔ کسی انٹرویو میں وہ ایران پر اسرائیل کے حملوں کو سند جواز عطا کرتا ہے تو کہیں اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی حمایت کرتا ہے اور کہیں ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کی یقین دہانیاں کراتا پھرتا ہے۔ یوں پچھلے چند برسوں سے ایران میں بے چینی کی اْٹھنے والی ہر لہر کے دوران متبادل قیادت کے طور رضاپہلوی ہمہ وقت موجود ہوتا ہے۔ اس سب کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ یہ گنجائش رکھتے ہیں کہ ایران میں حکومت تو بدل جائے گی مگر ایران کے عوام رضاپہلوی کو قبول کرتے ہیں یا نہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

گویاکہ ٹرمپ اپنا سب کچھ رضا پہلوی جیسے غیر مقبول کردار کے لیے داؤ پر نہیں لگانا چاہتے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایرانی عوام کو دکھایا تو رضا پہلوی جارہا ہو مگر اندر سے کچھ اور ہی برآمد ہو۔ مغرب اس طرح کا ہاتھ افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ اور مصر کے راہنما محمد البرادی کے ساتھ کر چکا ہے۔ امریکا اور ناٹو نے افغانستان میں بمباری کرکے ملا عمر کی حکومت ختم کی تو جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ظاہر شاہ برسوں سے اس امید پر جی رہے تھے کہ جب افغان مجاہدین کامیاب ہوں گے تو امریکا مجاہدین کی وضع قطع اور ذہنی سوچ ساخت کے باعث انہیں حکمران کے طور پر قبول نہیں کرے گا اور یوں قرعہ ٔ فال خود ان کے نام نکلے گا۔ افغانستان میں رجیم چینج ہوئی تو ظاہر شاہ کو جرمنی کے ڈیپ فریزر سے نکال کر واپس تو لایا گیا مگر وہ کسی عجائب خانے میں پڑی نادر ونایاب شے بن کر رہے اور افغانستان پر حکمرانی کا قرعہ حامد کرزئی کے نام نکلا۔ اسی طرح مصر میں محمد مرسی کے خلاف رجیم چینج مہم کا پوسٹر بوائے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے نمائندے محمد البرادی تھے۔ محمد البرادی نے خود کو متبادل حکمران کے طور پر پیش کرکے محمد مرسی کے خلاف ایک منظم مہم کی بظاہر قیادت کی۔ محمد البرادی وہی شخصیت تھی جو امریکا کے اشارے پر ہر دوسرے روز عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش کے نام پر بغداد میں آدھمکتے تھے۔ محمد مرسی کی حکومت کا تختہ تو اْلٹا دیا گیا مگر اقتدار کا ہما البرادی کے کندھے پر بھی نہ بیٹھا اور پردے کے پیچھے بیٹھے ہوئے کرداروں نے خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ ایران میں رجیم چینج ہو بھی جاتی تو عین ممکن تھا کہ یہی کچھ رضا پہلوی کے ساتھ بھی ہوتا۔

ایران میں انسانی حقوق جمہوریت، آزادیٔ اظہار خواتین کے حقوق کی باتوں نے مغرب کی کئی تضاد بھری کہانیاں یادوں کی لوح پر تازہ کردیں۔ جناب ِ ٹرمپ کے ان دعوؤں کو سن کر لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کی صاحبزادی عائشہ قذافی کی یادوں کے زخم بھی ہرے ہوئے۔ انہوں نے ایرانی عوام کے نام ایک کھلے خط کی صورت میں اپنے بھیانک مشاہدات اور تجربات کا نچوڑ پیش کیا۔ ان کے والد معر قذافی جو مدتوں تک امریکا کے ساتھ ایک کشمکش کی کیفیت میں رہے کس طرح مغرب کے دام ِ فریب کا شکار ہو کر تخت وتاج ہی سے نہیں اپنی زندگی سے بھی محروم ہوئے۔ عائشہ قذافی بحرین میں جلاوطنی کے دن گزار رہی ہیں۔ ایرانی عوام کے نام اپنے خط میں انہوں نے امریکا کی منافقانہ حکمت عملی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوں ہمت اور آزادی پر نثار ہونے والے ایرانی عوام کے نام؛ اس حال میں کہ دل تباہی غم اور دکھ سے بوجھل ہے۔ اے اہل ایران میں آپ سے مخاطب ہوں۔ میں ایک دکھوں کی ماری کھلے دشمنوں نہیں، جس کے وطن کو مغربی ملکوں نے مسکراہٹوں اور وعدوں سے تباہ کر ڈالا۔ آپ کو میں انتباہ کرتی ہوں کہ مغربی ملکوں کے دل فریب وعدوں میں نہ آنا۔ میرے والد گرامی معمر قذافی سے انہوں نے کہا تھا اگر آپ اپنے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو محدود اور ترک کریں گے تو ہم کھلے بازوؤں سے آپ کا خیر مقدم کریں گے۔ مکالمے اور خیر سگالی کے آرزو مند میرے والد نے ان پر اعتماد کر لیا اور پھر ہم نے بمبار طیاروں سے اپنے وطن کی خاک اْڑتے دیکھی۔ لیبیا خون میں نہلایا اس کے بیٹے اور بیٹیاں جلاوطن ہوئے بھوکے رہے اور انہیں کھنڈرات نصیب ہوئے۔ اے میرے ایرانی بھائیو اور بہنو مغرب کی اقتصادی پابندیوں کے ہنگام آپ کی شجاعت اور صبر وہمت آپ کی آزادی اور قومی وقار سے حقیقی محبت کے مظہر ہیں۔ دشمن کو رعایت دینے کا مطلب ہے تقسیم تباہی اور اذیت۔ بھیڑیوں سے بات چیت امن عطا نہیں کرتی۔ بس تھوڑی سی مہلت اور اس کے بعد المناک موت۔

عائشہ قذافی کے والد معمر قذافی اور ان کے شوہر کو ان کے سامنے قتل کیا گیا تھا اور انہیں ایک بچے کے ساتھ کسمپرسی کے عالم میں ترکی میں پناہ لینا پڑی تھی۔ مغرب کی پالیسیوں ان کے تزویراتی پھندوں پر بھروسا کرنے والے سب حکمرانوں کے لیے اس پیغام میں ایک سبق ہے۔ اسی طرح ایران خواتین کے حقوق کی خاطر ہلکان ہونے والے مغربی اداروں اور حکمرانوں کے بارے میں فاطمہ بھٹو کا ایک تبصرہ ٹویٹر پر وائرل ہے جس میں وہ کہتی ہیں جو لوگ ایران میں عورتوں سے حجاب اْتارنے کے لیے احتجاجی مظاہرے منعقد کرتے ہیں مگر جب وہ غزہ کی عورتوں کے بارے میں خاموش رہتے ہیں تو میں انہیں فیمنسٹ نہیں پروپیگنڈسٹ کہتی ہوں۔

 

عارف بہار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں رجیم چینج محمد البرادی ایرانی عوام عائشہ قذافی رضا پہلوی ایران میں ایران کے کہ ایران کے ساتھ اور ان کے نام ہے اور کے لیے

پڑھیں:

امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔

U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026

سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران