ٹیکس اور سرچارجز کے باعث بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں، نیپرا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
نیپرا نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 جاری کر دی جس میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسز، ڈیوٹیز اور سرچارجز کے باعث بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 24-2023 میں بجلی کمپنیوں کے نقصانات 18.31 فیصد رہے، نیپرا نے ڈسکوز کیلیے نقصانات کی حد 11.77 فیصد مقرر کر رکھی ہے، ڈسکوز نقصانات کے باعث ایک سال میں گردشی قرض 276 ارب روپے مزید بڑھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 24-2023 میں ریکوری کی شرح 92.
نیپرا کے مطابق ملک میں بجلی کی کل صلاحیت 45 ہزار 888 میگاواٹ ہے، ایک سال میں دستیاب بجلی کے استعمال کی شرح 33.88 فیصد رہی، صارفین نے استعمال نہ ہونے والی 6.12 فیصد توانائی کی قیمت بھی ادا کی، مالی سال 24-2023 میں اس کی فروخت میں نمایاں کمی ہوئی۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔