ملک بھر میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )ملک میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافے کا رجحان سامنے آ گیا ہے۔مقامی مارکیٹوں میں 585، 645 اور 720 واٹ کے حامل درآمدہ چینی سولر پینلز کی قیمتوں میں اوسطا پانچ ہزار روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد 585 واٹ کے سولر پینل کی قیمت 16 سے 17 ہزار تک بڑھ کر 20 سے 21 ہزار، 645 واٹ ، کی قیمت 20 ہزار سے بڑھ کر 24 سے 25 ہزار جبکہ 720 واٹ کے پینل کی قیمت بڑھ کر 30 سے 35 ہزار روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔عالمی سطح پر چاندی، تانبے کی قیمت میں اضافہ سولر کمپنیوں کی پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ بتائی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 5 ماہ میں فی واٹ سولر پینل کی قیمت 22 روپے سے بڑھ کر 33 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔
مدینہ پہنچے، 3 گھنٹے تک ایئر پورٹ کے لاؤنج نما کمرے میں بسوں کے انتظار میں بیٹھے رہے، سامان کی تلاش میں رات بھر مارے مارے پھرتے رہے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: قیمتوں میں کی قیمت بڑھ کر
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔