Express News:
2026-06-02@23:59:40 GMT

ملک بھر میں سولر پینل پلیٹس کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

ملک میں رواں سال کے آغاز سے سولر پینلز کی قیمتوں میں یکدم بڑے اضافے کا رحجان پیدا ہوگیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مقامی مارکیٹوں میں 585، 645 اور 720واٹ کے حامل درآمدہ چینی سولر پینلز کی قیمتوں میں اوسطا پانچ ہزار روپے  کا اضافہ ہوگیا ہے۔ جسکے نتیجے میں 585واٹ کے سولر پینل کی قیمت 16ہزار تا 17ہزار روپے سے بڑھکر 20ہزار سے 21ہزار روپے ہوگئی۔

اس کے علاوہ 645 واٹ کے حامل سولر پینل کی قیمت 20ہزار روپے سے بڑھکر 24ہزار تا 25ہزار روپے ہوگئی جبکہ 720واٹ کے حامل سولر پینل کی قیمت 22ہزار تا 25ہزار روپے سے بڑھ کر 30ہزار تا 35ہزار روپے کی سطح پر آگئی۔

سولر پینلز کے درآمدکنندہ اور کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر سلیم میمن نے ایکسپریس کو بتایا کہ عالمی سطح پر چاندی، تانبے کی قیمت بڑھنے سے چینی سولر کمپنیوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 5ماہ میں فی واٹ سولر پینل کی قیمت 22روپے سے بڑھ کر 33 روپے کی سطح پر آگیا ہے۔

مزید پڑھیں

قائمہ کمیٹی، سندھ سولر انرجی منصوبے میں کرپشن کا انکشاف

ٹرینا اسٹوریج نے پاکستان کے سولر بوم کے دوران آٹھویں بار بی این ای ایف ٹائرون رینکنگ حاصل کرلی

انہوں نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی عوامی خریداری سرگرمیوں اور چین میں قیمتیں بڑھنے آئندہ چند ماہ کے دوران سولر پینل کی فی واٹ قیمت بڑھ کر 40روپے کی سطح پر پہنچ جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ چینی سولر پینلز کی امپورٹ پر عائد ٹیکسز بھی سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔ مقامی سطح پر سولر پینلز کی ٹیکنالوجی مسابقت سے بھی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

سلیم میمن نے بتایا کہ دو سالوں میں وسیع درآمدات کی وجہ سے ملک میں سولر پینلز کے وسیع ذخائر موجود ہیں، ملک بھر میں نہ صرف سولر پینلز مہنگے ہوگئے ہیں بلکہ اس میں استعمال بیٹریوں کی قیمت بھی بڑھی ہے اور گزشتہ ایک ماہ میں سولر بیٹریوں کی قیمت میں بھی 10فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سولر پینل کی قیمت سولر پینلز کی کی قیمتوں میں بتایا کہ روپے سے

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟