آئندہ قومی انتخابات کے پیشِ نظر بنگلہ دیش کی سرحدوں پرغیرقانونی آمدورفت، جعلی کرنسی اور اسلحہ کی اسمگلنگ سنگین سیکیورٹی خدشات کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر وارداتوں کے بعد فرار کے لیے کھلی سرحدی گزرگاہوں کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ان خدشات پر حال ہی میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی حکومتی اجلاسوں میں غور کیا گیا، جس کے بعد پولیس کو 27 سرحدی اضلاع میں نگرانی سخت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش یعنی بی جے بی کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

29 دسمبر کو ڈھاکا کے علاقے پلکھانا میں بی جی بی ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیرِ داخلہ (ریٹائرڈ) لیفٹیننٹ جنرل محمد جہانگیر عالم چوہدری نے سرحدی فورسز کو ہدایت کی کہ کسی بھی مجرم یا دہشت گرد کو ملک سے فرار ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اسمگلرز کی معاونت کرنے والے کسی بھی اہلکار یا افسر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سیکیورٹی اور جرائم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غیرقانونی آمدورفت اور اسمگلنگ پہلے بھی خطرناک تھی، تاہم انتخابات کے قریب آتے ہی اس خطرے میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

27 اضلاع میں 787 ’لائن مین‘ کی نشاندہی

انتخابات سے قبل پولیس نے 27 سرحدی اضلاع میں غیرقانونی سرحدی آمدورفت میں سہولت کاری کرنے والے افراد کی فہرست تیار کر لی ہے، پولیس کے مطابق مجموعی طور پر 787 ’لائن مین‘ کی نشاندہی کی گئی ہے، جو مقامی دلالوں کے طور پر غیرقانونی آمدورفت کا بندوبست کرتے ہیں۔

پولیس ہیڈکوارٹرز نے ان کی گرفتاری کے لیے نگرانی مزید سخت اور ٹارگٹڈ آپریشنز شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔

فہرست کے مطابق سب سے زیادہ لائن مین کا تعلق کاکس بازار (99)، بندربان (116)، سلہٹ (58)، سات کھیرا (52)، پنچ گڑھ (44)، لال مونیر ہاٹ (39) اور برہمن باریہ (37) سے ہے۔

مزید پڑھیں:

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ لائن مین سرحد پار جرائم میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بیشتر مقامی باشندے ہوتے ہیں جو دشوار گزار علاقوں، دریاؤں اور ویران سرحدی راستوں سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ یہ افراد محفوظ راستوں، کشتیوں یا گاڑیوں کا انتظام کرتے ہیں اور بعض اوقات سیکیورٹی گشت کے اوقات سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔

ایک سرحدی ضلع کے سینیئر پولیس افسر کے مطابق، ان لائن مینوں کے بغیر بڑے پیمانے پر اسمگلنگ اور غیرقانونی آمدورفت تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ یہ مختلف مجرمانہ نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور غیرقانونی سرگرمیوں سے بھاری منافع کماتے ہیں۔

غیرقانونی آمدورفت سے بڑھتے ہوئے خطرات

سیکیورٹی اداروں کے مطابق غیرقانونی سرحدی آمدورفت سے 2 بڑے خطرات پیدا ہو رہے ہیں، اول، جرائم کے بعد مجرموں کا ملک سے فرار اور دوم، بیرون ملک سے جرائم پیشہ افراد کا غیرقانونی طور پر بنگلہ دیش میں داخل ہونا۔

حالیہ دنوں شریف عثمان ہادی کے ہائی پروفائل قتل کے بعد مرکزی ملزم فیصل کریم مسعود اور اس کے ساتھی کے بھارت فرار ہونے کی اطلاعات کے بعد سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی گئی۔

مزید پڑھیں:

حکام کے مطابق بدنام زمانہ مجرم مولا مسعود گزشتہ برس جولائی کی بغاوت کے بعد غیرقانونی طور پر دوبارہ بنگلہ دیش میں داخل ہوا تھا۔ اسے فوج نے کُشتیہ سے گرفتار کیا، جہاں اس کے قبضے سے 5 غیرملکی پستول، 10 میگزین، 53 گولیاں اور ایک سیٹلائٹ فون برآمد ہوا۔

اس کے ساتھ مطلوب مجرم سبراٹا بائن بھی گرفتار ہوا، جو اس سے قبل جرائم کے بعد بھارت فرار ہو چکا تھا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق کم از کم 3 مزید سرکردہ مجرم، جو 5 اگست 2024 کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے تھے، بھی غیرقانونی طور پر ملک چھوڑ چکے ہیں، جن کے قانونی امیگریشن ریکارڈ موجود نہیں۔

غیرقانونی اسلحے کی آمد پر تشویش

سی آئی ڈی کے مطابق حالیہ جرائم میں 7.

65  ایم ایم کے ہتھیار استعمال ہوئے ہیں، جو بنگلہ دیش میں عام نہیں سمجھے جاتے، اس سے شبہ بڑھ گیا ہے کہ ملک میں نیا غیرقانونی اسلحہ اسمگل کیا جا رہا ہے۔

2 جنوری کو پولیس نے کومیلا میں ایک شخص کو غیرملکی پستول، 4 گولیوں اور ایک میگزین کے ساتھ گرفتار کیا۔ داخلی پولیس رپورٹ کے مطابق یہ واضح طور پر 7.65 ایم ایم غیرملکی ساختہ پستول تھا۔

کومیلا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انیس الزمان کے مطابق ایسے ہتھیار عموماً مجرمانہ نیٹ ورکس میں کرائے پر بھی دیے جاتے ہیں۔

انتخابات سے قبل جعلی کرنسی کا خدشہ

انتخابی مہم کے باعث رقوم کے بڑھتے ہوئے لین دین کے پیشِ نظر جعلی کرنسی کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، نئے ڈیزائن کے نوٹوں کے اجرا کے باعث عوام کے لیے اصلی اور جعلی نوٹ میں فرق کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

حکام کا شبہ ہے کہ اسمگلر سرحدی علاقوں کو جعلی کرنسی کی ترسیل کے مراکز کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

6 نومبر کو بی جی بی نے جعلی کرنسی کی اسمگلنگ روکنے کے لیے انٹیلی جنس نگرانی اور کارروائیوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا اور شہریوں سے مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دینے کی اپیل کی تھی۔

سرحدی نگرانی مزید مضبوط بنانے پر زور

ماہرین کے مطابق پہاڑی، دریائی اور ویران علاقوں پر مشتمل بنگلہ دیش کی طویل اور دشوار گزار سرحد مکمل نگرانی کو مشکل بناتی ہے، بندربان کا نائکھونگ چھڑی اور کومیلا کے دریائی راستے خاص طور پر حساس تصور کیے جاتے ہیں۔

ڈھاکا یونیورسٹی کے جرائم کے ماہر توحیدالحق کا کہنا ہے کہ اگر مجرم یہ سمجھنے لگیں کہ وہ جرم کے بعد آسانی سے سرحد پار فرار ہو سکتے ہیں تو سیکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق شفاف اور محفوظ انتخابات کے لیے مضبوط سرحدی نگرانی ناگزیر ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ رات کے گشت، بی جی بی کے ساتھ مشترکہ آپریشنز اور انٹیلی جنس مانیٹرنگ میں اضافہ کیا جا چکا ہے، جس سے غیرقانونی آمدورفت میں کمی آئی ہے، تاہم یہ مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلحہ اسمگلنگ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش جعلی کرنسی شریف عثمان ہادی فیصل کریم مسعود کومیلا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسمگلنگ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش جعلی کرنسی شریف عثمان ہادی فیصل کریم مسعود کومیلا

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان