باجوڑ میں جماعت اسلامی کے رہنما مولانا وحید گل کے گھر پر بم حملہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
باجوڑ: خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر اور سابق امیدوار برائے صوبائی اسمبلی مولانا وحید گل کی رہائش گاہ پر بم حملہ کیاگیا۔
پولیس کے مطابق بم زور دار دھماکے سے پھٹا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دھماکے میں گھر، حجرہ اور ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ۔ واقعے کے وقت مولانا وحید گل گھر پر موجود نہیں تھے، جس کے باعث وہ محفوظ رہے۔
پولیس کے مطابق دھماکہ خیز مواد مولانا وحید گل کے حجرے کے مرکزی گیٹ کے قریب نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے کے فوراً بعد پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے اور تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں آئی ای ڈی استعمال کی گئی۔واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا وحید گل
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔