مینیسوٹا میں وفاقی جج کا اہم حکم: آئی سی ای ایجنٹس پر پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی WhatsAppFacebookTwitter 0 18 January, 2026 سب نیوز

مینیسوٹا (شاہ خالد خان کی رپورٹ)

امریکی ریاست مینیسوٹا کی وفاقی عدالت نے ایک اہم ابتدائی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایجنٹس کو پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال، گرفتاریاں یا انتقامی کارروائیاں کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ حکم نامہ یو ایس ڈسٹرکٹ جج کیتھرین مینینڈیز نے جاری کیا ہے، جس میں مرچ سپرے کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے اور آپریشنز کے دوران محفوظ طریقے سے گاڑیوں کی پیروی کرنے والوں کے لیے گاڑیوں کو روکنے کی حدود کا تعین کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ مینیاپولس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آئی سی ای کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی شکایات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اس کی بنیاد ایک افسوسناک واقعے پر ہے، جہاں ایک آئی سی ای ایجنٹ نے ایک مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے نے علاقے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا، اور متعدد احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ آئی سی ای ایجنٹس نے غیر قانونی طور پر تارکین وطن کی گرفتاریوں کے دوران مظاہرین کو نشانہ بنایا، جس میں جسمانی تشدد، گرفتاریاں اور دھمکیاں شامل ہیں۔

جج مینینڈیز کے حکم نامے کے مطابق، آئی سی ای ایجنٹس کو پرامن مظاہرین کے خلاف کسی بھی قسم کی طاقت کا استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے، بشمول مرچ سپرے، جسمانی حملے یا گرفتاریاں۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ مظاہرین کو آئی سی ای کی گاڑیوں کی پرامن پیروی کرنے کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ یہ کوئی زبردستی رکاوٹ نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مظاہرین محفوظ فاصلے سے آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہوں تو انہیں روکا نہیں جا سکتا، لیکن اگر وہ راستہ روکیں یا آپریشن میں مداخلت کریں تو کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے اس حکم نامے پر شدید تنقید کی ہے۔ ڈی ایچ ایس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئی سی ای کے افسران کی حفاظت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیوں کو کمزور کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ حکم نامہ مظاہرین کو غیر قانونی طور پر افسران کی نگرانی کرنے کی اجازت دیتا ہے، جو ہمارے ملازمین کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔” تاہم، جج مینینڈیز نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ حکم نامہ امریکی آئین کے تحت آزادی اظہار اور پرامن احتجاج کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے، اور یہ صرف ان مظاہرین پر لاگو ہوتا ہے جو قوانین کی خلاف ورزی نہیں کر رہے۔

یہ معاملہ مینیاپولس میں ایک وسیع تر تنازعے کا حصہ ہے، جہاں حالیہ مہینوں میں آئی سی ای کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے کہ امریکن سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اے سی ایل یو کی ایک ترجمان نے کہا کہ “یہ حکم نامہ ایک اہم قدم ہے جو سرکاری افسران کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کو روکے گا اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے گا۔”

اس واقعے کی ابتداء ایک مہلک شوٹنگ سے ہوئی، جب ایک آئی سی ای ایجنٹ نے ایک مظاہرین کو گولی مار دی۔ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ایجنٹ کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ مینیاپولس پولیس اور وفاقی افسران کے درمیان بھی تعاون کی سطح پر تنازعات سامنے آئے ہیں، جو اس کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

یہ حکم نامہ ابتدائی نوعیت کا ہے، یعنی یہ ایک مکمل مقدمے کی سماعت تک نافذ العمل رہے گا۔ فریقین کو اپیل کرنے کا حق حاصل ہے، اور ڈی ایچ ایس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرے گا۔ اس دوران، مینیاپولس میں احتجاج جاری ہیں، اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دیگر ریاستوں میں بھی اسی طرح کی کارروائیوں کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمریم نواز نے پنجاب کا ماحول بدل دیا، مثبت تبدیلی سے مخالفین بھی انکار نہیں کر سکتے: چوہدری طارق سبحانی مریم نواز نے پنجاب کا ماحول بدل دیا، مثبت تبدیلی سے مخالفین بھی انکار نہیں کر سکتے: چوہدری طارق سبحانی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کراچی؛ گل پلازہ میں لگی آگ تاحال بے قابو، عمارت کے دو حصے زمین بوس، 6 افراد جاں بحق، 20 زخمی بھارت نے آئی سی سی ایونٹ کو بھی داغدار کردیا، انڈر19 ورلڈکپ میں بھارتی کپتان نے بنگلادیشی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے، آج نہیں توکل مزید صوبے بنانے ہی پڑیں گے: مصطفی کمال جنید صفدر نے شادی میں کس ڈیزائنر کے کپڑے پہنے؟دلچسپ تفصیلات سب نیوز پر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پرامن مظاہرین کے خلاف آئی سی ای ایجنٹس طاقت کے استعمال

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار