لندن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر ہنگامہ، متعدد مظاہرین گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مظاہرین کے خلاف مختلف سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
لندن پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر پرتشدد ہنگامہ آرائی، ایمرجنسی اہلکار پر حملہ، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور سفارتی احاطے میں غیر قانونی داخلے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیںایران کے حالیہ فسادات میں ٹرمپ ذاتی طور پر ملوث ہیں؛ خامنہ ای
روسی صدر کی اسرائیل کو ایران کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش
ایران میں پرتشدد مظاہروں میں اسرائیلی کردار کےناقابل تردید شواہد ہیں، وزیر خارجہ
پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران سفارت خانے کی چھت پر نصب ایرانی پرچم اتارنے والے ایک شخص کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جس کے خلاف مجرمانہ نقصان پہنچانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ مظاہرے کے دوران پولیس اہلکاروں پر مختلف اشیاء پھینکی گئیں، جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکاروں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔
پولیس کے مطابق مظاہرین نے ایرانی پرچم اتارنے والے شخص کی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے کی بھی کوشش کی، جس پر صورتحال کو قابو میں رکھنے اور مزید بدامنی سے بچنے کے لیے سفارت خانے کے باہر سیکشن 35 کے تحت منتشر ہونے کا حکم نافذ کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سفارت خانے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔