وزیر خارجہ کا ایرانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (آن لائن) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے ، جس میں ایران اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے ایران میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن و سلامتی باہمی مشاورت اور تعاون سے ہی ممکن ہے۔دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر پاکستان اور ایران کے درمیان موجود قریبی سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔رابطے کے دوران اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔