بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا ایوی ایشن جرمانہ، انڈی گو کو ناقص منصوبہ بندی مہنگی پڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
بھارت کی سول ایوی ایشن ریگولیٹری اتھارٹی نے دسمبر میں بڑے پیمانے پر پروازوں کی منسوخی پر ملک کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈی گو (IndiGo) پر ریکارڈ جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
ریگولیٹر کے مطابق پائلٹس کی ناقص ڈیوٹی روسٹر منصوبہ بندی کے باعث پروازوں کی منسوخی کا بحران پیدا ہوا، جس پر انڈی گو پر 222 ملین بھارتی روپے (تقریباً 24 لاکھ 50 ہزار ڈالر) کا جرمانہ کیا گیا، جو اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔
اتھارٹی نے ایئرلائن کے اعلیٰ حکام کو وارننگ بھی جاری کی ہے، جن میں چیف آپریٹنگ آفیسر اسیدرے پورکیراس اور آپریشن کنٹرول سینٹر کے سینئر نائب صدر جیسن ہرٹر شامل ہیں۔ ریگولیٹر نے ہدایت دی ہے کہ جیسن ہرٹر کو موجودہ آپریشنل ذمہ داریوں سے ہٹا دیا جائے۔
حکام کے مطابق انڈی گو کو 5.
انڈی گو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ اور انتظامیہ حکومتی احکامات کا مکمل جائزہ لے رہی ہے اور مناسب وقت پر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ دسمبر کے ابتدائی ہفتوں میں انڈی گو نے تقریباً 4,500 پروازیں منسوخ کیں، جس کے باعث ملک بھر میں ہزاروں مسافر پھنس گئے اور ہوائی اڈوں پر شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انڈی گو
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :