Daily Mumtaz:
2026-06-02@20:43:50 GMT

مفت چیٹ جی پی ٹی کا دور ختم، جلد اشتہار چلیں گے

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

مفت چیٹ جی پی ٹی کا دور ختم، جلد اشتہار چلیں گے

سلیکان ویلی (ویب ڈیسک) اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کا پریمیم ورژن استعمال نہ کرنے والے صارفین کو جلد اشتہار دکھانا شروع کر دے گا۔
مصنوعی ذہانت بنانے والی اس کمپنی اوپن اے آئی نے بتایا کہ ابھی تک اشتہارات متعارف نہیں کرائے گئے لیکن آنے والے ہفتوں میں ان کا تجربہ شروع کیا جائے گا، یہ سان فرانسسکو میں قائم کمپنی کی چیٹ جی پی ٹی کے 80 کروڑ سے زائد صارفین، جن میں سے زیادہ تر اسے مفت استعمال کرتے ہیں، سے کسی طرح آمدنی حاصل کرنے کی تازہ کوشش ہے۔

اوپن اے آئی کمپنی کی مالیت 500 ارب ڈالر ہے لیکن اس کا خرچہ اس کی آمدن سے کہیں زیادہ ہے اور یہ منافع کمانے کے طریقے تلاش کر رہی ہے، مشہور کہاوت ہے کہ اگر سروس مفت ہے تو پھر اصل میں آپ خود ہی پروڈکٹ ہیں۔

اوپن اے آئی میں اپلیکیشنز کی سی ای او فجی سیمو نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اشتہارات چیٹ جی پی ٹی کے دیے جانے والے جوابات کو متاثر نہیں کریں گے، ڈیجیٹل اشتہارات چیٹ جی پی ٹی کے جوابات کے نیچے اس وقت ظاہر ہوں گے جب آپ کی موجودہ گفتگو سے متعلق کسی سپانسرڈ مصنوعات یا سروس کا امکان موجود ہو۔‘

کمپنی کے مطابق اشتہارات واضح طور پر لیبل کیے گئے ہوں گے اور اصل جواب سے الگ دکھائے جائیں گے، اشتہارات کا حصول اس کے اصل مشن، یعنی انسانیت کو فائدہ پہنچانے والی اے آئی، کی حمایت میں ہو گا۔

اوپن اے آئی کے دو بڑے حریف گوگل اور میٹا برسوں سے ڈیجیٹل اشتہارات پر حاوی ہیں اور پہلے ہی اپنی کچھ اے آئی خصوصیات میں اشتہارات دکھاتے ہیں۔

ابتدا میں بہتر انسان دوست اے آئی بنانے کے محفوظ مشن کے ساتھ ایک غیر منافع بخش تنظیم کے طور پر قائم ہونے والی اوپن اے آئی نے گزشتہ سال اپنی ملکیتی ساخت تبدیل کرکے خود کو ایک پبلک بینیفٹ کارپوریشن بنا لیا تھا۔

سینٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی کی میرینڈا بوگن کے مطابق تاہم ذاتی نوعیت کے اشتہارات متعارف کروانا اوپن اے آئی کو ایک خطرناک راستے پر ڈال دیتا ہے، جو پہلے سوشل میڈیا کمپنیوں نے اختیار کیا تھا۔

سی ڈی ٹی کی اے آئی گورننس لیب کی ڈائریکٹر بوگن کہتی ہیں کہ لوگ چیٹ بوٹس کو مختلف وجوہات کے لیے استعمال کرتے ہیں، جن میں ساتھی یا مشیر کے طور پر بھی شامل ہے۔،جب یہ ٹول صارف کے بھروسے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اشتہارات بیچنے لگے تو داؤ بہت بڑا ہو جاتا ہے۔

اوپن اے آئی کچھ آمدنی سبسکرپشنز سے کماتا ہے مگر اسے ان کمپیوٹر چپس اور ڈیٹا سینٹرز کے کھربوں ڈالر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید آمدنی کی ضرورت ہے جو اس کی اے آئی سروسز کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔

یہ خدشہ کہ اوپن اے آئی اپنے بڑے حمایتیوں، جیسے اوریکل اور این ویڈیا،کی توقعات پوری کرنے کے لیے کافی پیسہ نہیں کما سکے گا، سرمایہ کاروں میں اے آئی ببل کے حوالے سے تشویش کو بڑھا رہا ہے۔

اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے ایکس پر لکھا کہ ہمارے لیے یہ بات واضح ہے کہ بہت سے لوگ بہت زیادہ اے آئی استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ادائیگی نہیں کرنا چاہتے، اس لیے ہمیں امید ہے کہ اس طرح کا بزنس ماڈل کام کرے گا، انہیں میٹا کے انسٹاگرام کے اشتہارات پسند ہیں کیونکہ وہ انہیں ایسی چیزیں دکھاتے ہیں جو وہ خود سے کبھی نہ ڈھونڈ پاتے۔

اوپن اےفارسٹر کے تجزیہ کار پیڈی ہیرنگٹن کہتے ہیں کہ اے آئی کا دعویٰ ہے کہ وہ صارفین کی ذاتی معلومات یا پرامپٹس کو اشتہارات کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے میں استعمال نہیں کرے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ مفت خدمات کبھی واقعی مفت نہیں ہوتیں اور یہ عوامی اے آئی پلیٹ فارم آمدنی پیدا کرنے کے لیے مجبور ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی اوپن اے آئی کے لیے

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ