ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آگیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آگیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 January, 2026 سب نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہےکہ ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آگیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں حکومت کے خاتمےکا مطالبہ کرنے والے ملک گیر احتجاج کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں جب کہ ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ حالات مکمل کنٹرول میں ہیں۔
گزشتہ چند روز کے دوران ٹرمپ ایران میں فوجی مداخلت کی متعدد دھمکیاں دے چکے ہیں اور گزشتہ منگل کو انہوں نے ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے اور اداروں پر قبضہ کرنے کی اپیل بھی کی تھی اور کہا تھا کہ مدد آرہی ہے۔
تاہم اگلے ہی دن ٹرمپ نے اچانک اپنا مؤقف بدلتے ہوئےکہا کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ ایران میں ہلاکتیں رک چکی ہیں اور وہ پھانسیاں بھی نہیں دے رہے۔آج ایک بیان میں ایرانی سپریم لیڈر نے ایران میں ہونے والی ہلاکتوں اور بدامنی کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرایا تھا۔
ایرانی سپریم لیڈر کے بیان کے ردعمل میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران کے حکمران حکومت چلانے کے لیے جبر اور تشدد پر انحصار کرتے ہیں، جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔ٹرمپ نے کہا کہ قیادت کا مطلب احترام ہے، خوف اور موت نہیں، اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ہزاروں لوگوں کو قتل کرنے کے بجائے حکمرانوں کو ملک کو درست طریقے سے چلانے پر توجہ دینی چاہیے، جیسے میں امریکا میں کرتا ہوں۔امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ناقص قیادت کی وجہ سے ایران دنیا میں رہنے کے لیے بدترین جگہ بن چکا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ کے امن پر قیمت؟ ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ کی رکنیت فروخت کرنے کا منصوبہ غزہ کے امن پر قیمت؟ ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ کی رکنیت فروخت کرنے کا منصوبہ کراچی: گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا، اہل خانہ پریشان روات میں جدید تعلیمی سہولیات کا آغاز، آئی سی سی کیمپس کا باضابطہ افتتاح گل پلازے کا حادثہ بڑا، کولنگ پراسیس میں 3 سے 4 دن لگ سکتے ہیں: چیف فائر آفیسر مینیسوٹا میں وفاقی جج کا اہم حکم: آئی سی ای ایجنٹس پر پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی مریم نواز نے پنجاب کا ماحول بدل دیا، مثبت تبدیلی سے مخالفین بھی انکار نہیں کر سکتے: چوہدری طارق سبحانیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں قیادت کی ٹرمپ کا کے لیے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔