ایران میں فسادات کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں، پروفیسر جیفری
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ساکس (Jeffrey Sachs) نے ایران میں ہوئے حالیہ فسادات کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ایک غیر معمولی، پُرتشدد اور سفاک کھیل جاری ہے، خریدا ہوا اور جانبدار مین اسٹریم امریکی میڈیا بتاتا ہے کہ ایرانی حکومت نے معیشت پر کنٹرول کھو دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی میڈیا میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ دراصل ایرانی معیشت کو تباہ کرنے والا ہی امریکا ہے، ہمیشہ کی طرح عوام سے جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے عوام سے ظلم کر رہی ہے۔
معروف امریکی پروفیسر نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایرانی عوام کی زندگی کو جتنا ممکن ہو سکے بدتر بنائیں، ہدف ایران میں رجیم چینج کرنا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی امور کے ماہر سینیٹر مشاہد حسین سید نے جیفری ساکس کے بیان کو سراہتے ہوئے شیئر کیا اور لکھا کہ ایران کے بارے میں مغربی میڈیا اتنا کمزور، جعلی اور خریدا ہوا ہے کہ وہ سچ بتانے سے انکار کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔