آتشزدگی مقام پر پانی نہ ہونے کی خبروں کی بلدیہ نے سخت تردید کر دی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی:
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ترجمان نے شاپنگ پلازہ میں آتشزدگی کے مقام پر پانی کی عدم فراہمی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں اور بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ واٹر ٹینکرز یا فائر بریگیڈ کے پاس آگ بجھانے کے لیے پانی موجود نہیں تھا، جو کہ حقائق کے منافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ واٹر بورڈ کے حکام نے واقعے کے فوری بعد پانی کی فراہمی شروع کر دی تھی اور متعلقہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔
ترجمان کے مطابق کسی بھی حادثے کی اطلاع ملنے اور جائے وقوعہ تک پہنچنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے، تاہم تمام متعلقہ ادارے اور عملہ بروقت موقع پر پہنچا اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی الزام تراش ویڈیوز میں خود پانی کی موجودگی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جس سے پانی نہ ہونے کے دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں۔
ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن مختلف ادارے مشترکہ طور پر انجام دے رہے ہیں اور پوری کارروائی میڈیا کی مکمل نگرانی میں جاری ہے، جس سے شفافیت واضح ہے۔
آخر میں ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہ مفروضوں اور افواہوں پر مبنی بیانات سے گریز کریں اور انتظامیہ کو ریسکیو آپریشن اور امدادی سرگرمیاں مؤثر انداز میں مکمل کرنے دیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔