سندھ طاس معاہدہ اور امریکی جریدے کی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنوبی ایشیا ایک بار پھر ایک سنگین اسٹرٹیجک اور انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ خطے میں پہلے ہی سیاسی کشیدگی، سرحدی تنازعات اور عدم اعتماد کی فضا موجود ہے، ایسے میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے جیسے عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور دہائیوں سے کامیاب معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش نہ صرف دو طرفہ تعلقات کے لیے خطرناک ہے بلکہ پورے خطے کے امن اور بقا کے لیے بھی ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ حال ہی میں امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ بھارت کے حالیہ اقدامات، خصوصاً دْلہستی اسٹیج ٹو منصوبہ اور آبی ڈیٹا کی فراہمی کی معطلی، براہِ راست سندھ طاس معاہدے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ محض تکنیکی یا انتظامی فیصلے نہیں بلکہ پانی کو ایک اسٹرٹیجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا اور اسے دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مغربی دریا، سندھ، جہلم اور چناب، پاکستان کے لیے مختص ہیں، اور بھارت ان پر ایسا کوئی منصوبہ نہیں بنا سکتا جو پاکستان کے پانی کے حقوق کو متاثر کرے۔ عالمی ثالثی عدالت بھی واضح کر چکی ہے کہ بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا اور نہ ہی مغربی دریاؤں کے پانی کی فراہمی روکنے کا اختیار رکھتا ہے۔ تاہم، بھارت کا رویہ بتدریج ایک خطرناک سمت اختیار کر رہا ہے۔ آبی ڈیٹا کی بندش، نئے متنازع منصوبے اور معاہدے کی شقوں سے انحراف اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نئی دہلی پانی کو سفارتی دباؤ اور جغرافیائی سیاست کا ہتھیار بنانے پر تلا ہوا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ پانی اب محض قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ بقا کا بنیادی سوال بن چکا ہے۔ دی نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ درست طور پر خبردار کرتی ہے کہ اگر اس روش کو روکا نہ گیا تو خطے میں کشیدگی بڑھے گی، عدم استحکام میں اضافہ ہو گا اور تنازعات کے امکانات سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ عالمی عدالتوں اور بین الاقوامی قانون کی نظر میں پانی کو ہتھیار بنانا ناقابل ِ قبول ہے، اور ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی ذمے داریوں کو مقدم رکھیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض رسمی بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی سطح پر بھارت کو اس کے معاہداتی وعدوں کی پاسداری پر مجبور کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔