پارلیمنٹ میں افواج پاکستان، عدلیہ کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا: ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
لاہور: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں افواج پاکستان اور عدلیہ کے خلاف کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔
لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے فورم پر افواجِ پاکستان اور عدلیہ کے خلاف کسی بھی قسم کی گفتگو کی اجازت نہیں دی جائے گی، بطور اسپیکر یہ میری آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ایوان کے وقار اور ریاستی اداروں کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمنٹ عوامی خدمت کا سب سے مؤثر پلیٹ فارم ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ احتجاج کے بجائے ایوان کے اندر آ کر عوامی مسائل پر بات کریں، اگر احتجاج پرامن ہو تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے، تاہم ایوان کے اندر بات چیت آئینی حدود اور پارلیمانی روایات کے مطابق ہونی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن لیڈر جب سنجیدہ اور تعمیری بات کریں گے تو انہیں ایوان میں بھرپور موقع دیا جاتا رہے گا، توڑ پھوڑ، ڈنڈوں اور بندوقوں کی موجودگی تشویش کا باعث بنتی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پارلیمنٹ میں پاکستان مخالف بیانیے کی کوئی گنجائش نہیں، افواجِ پاکستان اور عدلیہ ریاست کے اہم ستون ہیں اور ان کے خلاف غیر ذمہ دارانہ گفتگو برداشت نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حق اور سچ کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں، تاہم ریاستی ادارے ان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیتے، پاکستان کے امریکا، چین، روس، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ مسائل برقرار ہیں، جو خطے میں عدم استحکام اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے۔
خارجہ پالیسی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رہتا ہے اور انہیں اس حوالے سے کبھی روکا نہیں گیا، موجودہ دور میں پاکستان کی خارجہ پالیسی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور متوازن ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر سطح پر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایاز صادق نے کہ پارلیمنٹ کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔