WE News:
2026-06-03@00:53:28 GMT

گل پلازہ آتشزدگی: عوامی رہنمائی کے لیے ہیلپ لائنز قائم

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں شدید آتشزدگی کے واقعے کے بعد عوام اور متاثرہ خاندانوں کی سہولت کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ہیلپ لائنز قائم کر دی گئی ہیں تاکہ گمشدہ افراد اور صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:کئی گھرانوں کے چراغ گُل کرنے والی گل پلازہ کی آگ میں متعدد افراد لاپتا، اہل خانہ پریشان

میڈیا رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو تیسرے درجے کی آتشزدگی قرار دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد کے تاحال عمارت میں پھنسے ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ آگ پر قابو پانے کے لیے شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کیے گئے ہیں اور پانی و فوم کے ذریعے آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی نے بتایا ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات یا گمشدگی سے متعلق اطلاع ڈی سی ساؤتھ کو دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری 03135048048، 02199206372 اور 02199205625 پر رابطہ کر سکتے ہیں، جبکہ گمشدہ افراد سے متعلق تفصیلات بھی انہی نمبرز پر فراہم کی جائیں۔

دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق عوام کی سہولت اور رہنمائی کے لیے ساؤتھ زون پولیس نے بھی علیحدہ ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔ شہری معلومات کے لیے 02199205670، 02199201196 اور 02199205691 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ آتشزدگی گیس لیکج کے باعث گراؤنڈ فلور پر دھماکے کے بعد شروع ہوئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے باعث گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں جل گئیں جبکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: گل پلازہ کے لیے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں