چین-کینیڈا تعلقات میں دونوں ممالک کو چار شعبوں میں اچھا شراکت دار بننا چاہیے، چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
چین-کینیڈا تعلقات میں دونوں ممالک کو چار شعبوں میں اچھا شراکت دار بننا چاہیے، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 18 January, 2026 سب نیوز
چین اور کینیڈا کثیرالجہتی اور آزاد تجارت کے محافظ ہیں، رپورٹ
بیجنگ ()
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے چین کے دورے پر مثبت تجزیے پیش کیے ہیں ۔ یہ آٹھ سال بعد کینیڈا کے کسی وزیر اعظم کا چین کا دورہ تھا ۔ چین میں قیام کے دوران چینی صدر شی جن پھنگ نے وزیر اعظم مارک کارنی سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا احترام کرنے والے شراکت دار ، مشترکہ ترقی کے شراکت دار ، باہمی اعتماد کے شراکت دار اور باہمی تعاون کے شراکت دار کے طور پر آگے بڑھنا چاہیے ۔ فریقین نے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا، جس میں چین اور کینیڈا کے درمیان نئی قسم کی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے، میکرو اکنامکس، تجارت و معیشت، توانائی، مالیات اور افرادی و ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں کامیابیوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا اور چین-کینیڈا تعلقات کی مثبت ترقی کے لیے تعاون کی آٹھ مخصوص دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔
اگلے مرحلے میں چین اور کینیڈا آگے بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کی صحت مند، مستحکم اور پائیدار ترقی کو کیسے فروغ دے سکتے ہیں؟ سیاسی باہمی اعتماد بنیادی چیز ہے۔ اگرچہ چین اور کینیڈا کے قومی حالات مختلف ہیں، لیکن دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت ، اپنے اپنے منتخب کردہ سیاسی نظام اور ترقی کے راستے کا احترام کرنا چاہیے اور ریاستوں کے درمیان درست تعلقات کو قائم رکھنا چاہیے۔
ترقیاتی تعاون محرک قوت ہے۔
چین اس وقت کینیڈا کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ کارنی کے موجودہ دورہ چین کے دوران، چین اور کینیڈا نے تجارت، توانائی، زراعت اور مالیات جیسے شعبوں میں تعاون کو بڑھایا اور اسے مضبوط کیا، جس سے دونوں ممالک اور دنیا کی ترقی میں نئی رفتار پیدا ہو گی ۔
ایشیا بحرالکاہل کے خطے اور یہاں تک کہ عالمی سطح پر نمایاں اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کے طور پر، چین اور کینیڈا کثیرالجہتی اور آزاد تجارت کے محافظ ہیں، اور بہت سے بین الاقوامی مسائل پر مشترکہ موقف رکھتے ہیں۔ توقع ہے کہ چین اور کینیڈا کے درمیان تعاون سے دنیا میں مزید استحکام آئے گا اور عالمی طرز حکمرانی کو زیادہ منصفانہ اور مناسب سمت میں فروغ ملے گا۔
سال 2026 چین اور کینیڈا دونوں کے لیے ایک غیر معمولی سال ہو گا۔ ایک نئے نقطہ آغاز پر کھڑے ہو کر اور “چار شراکت داریوں ” کے فریم ورک کی رہنمائی میں، چین اور کینیڈا اعتماد کو بڑھا تے ہوئے ، اختلافات کو دور کر کے، اور تعاون کو گہرا کر کے دو طرفہ تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف دونوں فریقوں کے مشترکہ مفادات کے عین مطابق ہے بلکہ عالمی امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی معاون ہے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین وسطی ایشیائی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ، چینی وزارت تجارت چین وسطی ایشیائی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ، چینی وزارت تجارت ایس ایم تنویر کا قومی معیشت کی تنزلی سے متعلق موقف حقائق کی عکاسی ہے، زاہد اقبال چوھدری حکومت نے پیٹرولیم لیوی بڑھا کر عوام کو قیمتوں میں کمی کے ریلیف سے محروم کردیا پاکستان کسٹمز کی بڑی پیش رفت: شپنگ چارجز سرکاری ریٹس کے مطابق نافذ سونے کی قیمت میں آج بھی ہوش ربا اضافہ، قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئیں ای سی سی نے دفاعی شعبے کیلئے 5 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دونوں ممالک شراکت دار
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔