مولی کے 6 اہم طبی فوائد، صحت مند زندگی کے لیے ایک سادہ مگر طاقتور سبزی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
مولی، جسے اردو اور ہندی میں عام طور پر مولی یا مُلی کہا جاتا ہے، ایک ایسی جڑ دار سبزی ہے جو بظاہر سادہ لیکن غذائیت کے اعتبار سے نہایت بھرپور ہے۔ یہ سبزی صدیوں سے برصغیر کی خوراک اور روایتی طب کا حصہ رہی ہے۔ کم کیلوریز، زیادہ پانی اور وٹامنز و معدنیات سے بھرپور مولی روزمرہ غذا میں شامل کی جائے تو صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ ذیل میں مولی کے چھ اہم طبی فوائد کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سردیوں کی سوغات: گاجر کا حلوہ
مولی ہاضمے کے لیے قدرتی معاون سمجھی جاتی ہے۔ اس میں موجود فائبر آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتا ہے اور قبض سے بچاتا ہے۔ آیوروید کے مطابق مولی بھوک بڑھانے اور معدے میں ہاضم رطوبتوں کے اخراج میں مدد دیتی ہے، جس سے بدہضمی، تیزابیت اور اپھارے میں کمی آتی ہے۔
مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی مولی کا اہم کردار ہے۔ اس میں وٹامن سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو جسم کو انفیکشنز سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ مولی میں موجود قدرتی مرکبات اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات رکھتے ہیں، جو نزلہ، زکام اور معمولی انفیکشنز کے خلاف مزاحمت بڑھاتے ہیں۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مولی ایک مفید سبزی ہے کیونکہ اس کا گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔ فائبر شوگر کے جذب کو سست کرتا ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح متوازن رہتی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق مولی کے اجزا انسولین کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اخروٹ اور بادام کہاں گئے؟ پاکستان پوسٹ کے ملازمین پر جرمانہ عائد
مولی جگر اور گردوں کی صفائی میں معاون سمجھی جاتی ہے۔ اسے قدرتی ڈیٹاکس سبزی کہا جاتا ہے جو پیشاب آور اثر رکھتی ہے اور جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔ روایتی طب میں مولی کا رس یرقان کے علاج میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔
جلد کی صحت کے لیے بھی مولی فائدہ مند ہے۔ اس میں موجود پانی، وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس جلد کو نمی فراہم کرتے ہیں، جھریوں سے بچاتے ہیں اور چہرے پر قدرتی نکھار لانے میں مدد دیتے ہیں۔ بعض گھریلو ٹوٹکوں میں مولی کے رس کو مہاسوں اور خارش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سوزش کم کرنے کی خصوصیات بھی مولی کا ایک اہم فائدہ ہیں۔ تحقیق کے مطابق مولی میں موجود قدرتی اجزا جسم میں سوزش پیدا کرنے والے عوامل کو کم کرتے ہیں، جس سے جوڑوں کے درد، سانس کی نالی کی سوزش اور دیگر مسائل میں افاقہ ہو سکتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق مولی کو سلاد، سبزی، پراٹھے، سوپ یا جوس کی شکل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اعتدال ضروری ہے کیونکہ زیادہ مقدار میں کچی مولی گیس یا معدے کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔ مجموعی طور پر مولی ایک سستی، آسانی سے دستیاب اور بے حد مفید سبزی ہے جو صحت مند زندگی کے لیے روزمرہ خوراک میں ضرور شامل ہونی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مولی مولی کے فوائد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مولی
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور