WE News:
2026-06-02@22:31:49 GMT

جیکو نے پاکستان میں سستی ترین ہائبرڈ گاڑی متعارف کروا دی

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

جیکو نے پاکستان میں سستی ترین ہائبرڈ گاڑی متعارف کروا دی

پاکستان میں ہائبرڈ ایس یو ویز کے بڑھتے ہوئے رجحان کے درمیان جیکو نے اپنی سب سے سستی ہائبرڈ ایس یو وی جے 5 متعارف کرا دی ہے۔ نشات گروپ کی معاونت سے لانچ کی گئی یہ گاڑی سیڈان اور ایس یو وی کے درمیان قیمت کے فرق کو کم کرنے کی کوشش قرار دی جا رہی ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر فیول ایوریج اور پریمیم سہولیات کو نسبتاً مناسب قیمت میں پیش کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیوں کے خریداروں کے لیے بڑی خبر، حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا

جیکو جے 5 ایک سیلف چارجنگ ہائبرڈ ہے جس میں ایک اعشاریہ 5 لیٹر ٹربو پیٹرول انجن کو ایک اعشاریہ 83 کلو واٹ آور بیٹری کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ کمپنی اس ٹیکنالوجی کو سپر ہائبرڈ سسٹم کا نام دیتی ہے، جو چیری کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ گاڑی دو ویرینٹس میں دستیاب ہے، جن میں کمفرٹ اور پریمیم شامل ہیں۔

ڈیزائن کے حوالے سے جیکو جے 5 کا فرنٹ خاص طور پر رینج روور ایووَک سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ واٹر فال اسٹائل فرنٹ گرِل، ایل ای ڈی ہیڈلائٹس، 18 انچ الائے ویلز، روف ریلز، چھپے ہوئے ڈور ہینڈلز اور جدید بمپر اسے مہنگی ایس یو ویز جیسی روڈ پریزنس دیتے ہیں۔ گاڑی میں مناسب بوٹ اسپیس موجود ہے، اگرچہ اسپیئر وہیل کی بجائے ٹائر ریپئر کٹ فراہم کی گئی ہے۔ پریمیم ویرینٹ میں پاورڈ ٹیل گیٹ اور 60:40 اسپلٹ ریئر سیٹس عملی استعمال کو مزید بہتر بناتے ہیں۔

اندرونی حصے میں ڈوئل ٹون گرے کلر اسکیم، سوفٹ ٹچ میٹیریل اور کاربن فائبر طرز کی ٹرم استعمال کی گئی ہے۔ کیبن میں 36 رنگوں کی ایمبینٹ لائٹنگ اور جدید ڈیش بورڈ ڈیزائن موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ بی سیگمنٹ ایس یو وی ہونے کے باوجود کشادہ محسوس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھاری ٹیکس: ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ متوقع

ٹیکنالوجی کے لحاظ سے گاڑی میں 13.

2 انچ ٹچ اسکرین انفوٹینمنٹ سسٹم دیا گیا ہے، جس کے ذریعے ڈرائیونگ موڈز، ہائبرڈ انرجی یوز اور دیگر سیٹنگز کنٹرول کی جا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ وائرلیس ایپل کار پلے، اینڈرائیڈ آٹو اور 8 انچ ڈیجیٹل انسٹرومنٹ کلسٹر بھی شامل ہے۔

سیفٹی کے میدان میں جیکو جے 5 کو اپنی کلاس میں نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں 6 ایئر بیگز، 540 ڈگری کیمرا سسٹم، فرنٹ کولیژن وارننگ، ایمرجنسی بریکنگ، ایڈاپٹو کروز کنٹرول، لین ڈیپارچر وارننگ، بلائنڈ اسپاٹ مانیٹرنگ، ریئر کراس ٹریفک الرٹ اور ڈرائیور فیٹیگ مانیٹرنگ جیسی جدید خصوصیات دی گئی ہیں۔

کارکردگی کے لحاظ سے گاڑی 221 ہارس پاور اور 295 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کی فیول ایوریج تقریباً 18 کلومیٹر فی لیٹر ہے، جبکہ 51 لیٹر کے فیول ٹینک کے ساتھ ایک بار فل ہونے پر 950 کلومیٹر تک کا سفر ممکن ہو سکتا ہے، تاہم اصل ایوریج کا اندازہ عملی استعمال کے بعد ہی ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ہنڈائی نے نئی ایلانٹرا ہائبرڈ گاڑی متعارف کرا دی

پاکستانی مارکیٹ میں جیکو جے 5 کو سب سے سستی ہائبرڈ ایس یو وی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کمفرٹ ویرینٹ کی قیمت 66 لاکھ 99 ہزار روپے جبکہ پریمیم ویرینٹ کی قیمت 76 لاکھ 99 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ تعارفی قیمتیں 10 مارچ 2026 تک برقرار رہیں گی۔ خریداروں کے لیے ایم سی بی کے ذریعے فنانسنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس کے تحت ماہانہ اقساط ایک لاکھ 6 ہزار 542 روپے سے شروع ہوتی ہیں، جو قرض کی مدت اور شرائط پر منحصر ہیں۔

مجموعی طور پر جیکو جے 5 ان خریداروں کے لیے ایک مضبوط آپشن کے طور پر سامنے آئی ہے جو سڈان سے اپ گریڈ ہو کر ایس یو وی لینا چاہتے ہیں، مگر فیول ایوریج اور آرام پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔ اگرچہ حتمی رائے کے لیے تفصیلی روڈ ٹیسٹ ضروری ہے، تاہم ابتدائی تاثر میں یہ گاڑی پاکستان کی سب کومپیکٹ ہائبرڈ ایس یو وی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان جیکو سستی گاڑی نشات گروپ ہائبرڈ گاڑی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان جیکو سستی گاڑی نشات گروپ ہائبرڈ گاڑی ہائبرڈ ایس یو ہائبرڈ گاڑی کی گئی ہے جیکو جے 5 گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار