اسلام آباد کو غیر قانونی اشتہاری اور سائن بورڈز سے پاک کرنے کیلئے کارروائی کا آغاز WhatsAppFacebookTwitter 0 18 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو غیر قانونی اشتہاری بورڈز اور سائن بورڈز سے پاک کرنے کیلئے جامع کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر شہر بھر میں غیر قانونی طور پر اشتہارات، سائن بورڈز اور دیواروں پر آویزاں اشتہارات کے خلاف بڑے پیمانے پر صفائی مہم جاری ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد اسلام آباد کے فطری اور قدرتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک منظم دارالخلافہ بنانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ایم سی آئی اور سی ڈی اے کے اس اقدام کے تحت نہ صرف کمرشل ایریاز و مراکز بلکہ رہائشی علاقوں کی دیواروں سے غیر قانونی اشتہارات ہٹائے جارہے ہیں بلکہ سڑکوں کے کنارے بیجا سائن بورڈز اور کھمبوں پر لگے اشتہاری مواد کو بھی مستقل بنیادوں پر ختم کیا جارہا ہے۔چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم فاطمہ نے کہا کہ غیر قانونی اشتہارات لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کی بغیر اجازت تشہیر کرنے والے افراد و گروہوں کے خلاف ایف آئی آر اندراج کا سلسلہ جاری ہے تاکہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔چیف آفیسر ایم سی آئی نے کہا کہ اس ضمن میں تمام ٹریڈ یونین اور تاجر برادری کو بھی اعتماد میں لیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا تمام ٹریڈ یونینز اور تاجر برادری کی جانب سے سی ڈی اے کے اس احسن اقدام کو بھرپور سراہا جارہا ہے۔

اس موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے نہ صرف شہر کی جمالیاتی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ دھوکہ باز اور فراڈیہ عناصر کے غیرمجاز اشتہارات سے شہریوں کو تحفظ بھی ملے گا۔ایم سی آئی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اسطرح کے اقدامات میں بھرپور تعاون کریں اور کسی بھی غیر قانونی اشتہار یا سائن بورڈ کی صورت میں متعلقہ حکام کو فورا اطلاع دیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کا کراچی میں گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر اظہار افسوس وزیراعظم کا کراچی میں گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر اظہار افسوس غیرجماعتی بلدیاتی نظام اور بیوروکریسی راج کسی صورت قبول نہیں: امیر جماعت اسلامی پنجاب غزہ بورڈ آف پیس پر اسرائیل کا سخت ردعمل، ٹرمپ منصوبہ مسترد کردیا امریکی سفارتخانے کی نشاندہی پر ایف آئی اے کی کارروائی، ویزا فراڈ اور مائیگرنٹ اسمگلنگ میں ملوث 2 ملزمان گرفتار ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آگیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے امن پر قیمت؟ ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ کی رکنیت فروخت کرنے کا منصوبہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اسلام آباد ایم سی آئی کا آغاز کے خلاف کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار