سعادت حسن منٹو کی برسی، 71 برس بعد بھی قلم کی گونج زندہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
لاہور:(نیوزڈیسک) معروف اور بے باک افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو ہم سے بچھڑے 71 برس بیت گئے، مگر ان کی تحریریں آج بھی اسی شدت، سچائی اور اثر کے ساتھ پڑھی اور سمجھی جاتی ہیں۔ منٹو اردو ادب کے ان چند بڑے ناموں میں شامل ہیں جنہوں نے معاشرے کے چھپے ہوئے تضادات، انسانی نفسیات اور سماجی ناانصافیوں کو بلا خوف و مصلحت اپنے قلم کا موضوع بنایا۔
سعادت حسن منٹو نے تقسیمِ ہند کے پس منظر میں جن افسانوں کو تخلیق کیا، وہ تاریخ، درد اور انسانیت کا ایسا عکس ہیں جو آج بھی قاری کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ ان کے افسانے محض کہانیاں نہیں بلکہ سماج کا آئینہ ہیں، جن میں سچ کو نہ تو خوبصورت بنا کر پیش کیا گیا اور نہ ہی اس پر پردہ ڈالا گیا۔
منٹو کو اپنی بے لاگ تحریروں کے باعث زندگی میں شدید تنقید، مقدمات اور مخالفت کا سامنا رہا، مگر انہوں نے قلم کی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کا ادبی ورثہ آج بھی نئی نسل کے لیے سوال، شعور اور فکر کی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
کراچی:شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے افسوسناک حادثات کے نتیجے میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق بلوچ کالونی کے علاقے کشمیر کالونی نالے والے روڈ پر نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے ایک 20 سالہ راہگیر جاں بحق ہوگیا۔
اطلاع ملنے پر چھیپا کے رضاکار موقع پر پہنچے اور لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا جہاں متوفی کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دوسرا واقعہ ایف سی ایریا کے ایک اپارٹمنٹ میں پیش آیا جہاں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔
چھیپا حکام کے مطابق متوفی کی لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی جہاں اس کی شناخت 40 سالہ اظہر احمد کے نام سے ہوئی۔
ادھر قیوم آباد میں جام صادق پل پر تیز رفتار ٹریلر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
ریسکیو اہلکاروں نے لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا جہاں متوفی کی شناخت 40 سالہ شکیل کے نام سے کی گئی۔