گل پلازہ کی ٗآگ پرقابونہ پانا سندھ حکومت کی نااہلی وبدترین گورننس کا نتیجہ ہے،منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے گل پلازہ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میٹروپولیٹن شہر ہے، پاکستان کی معیشت کو چلانے والا میگا سٹی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ 16گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ یہ واضح طور پر حکومتی ناکامی، انتظامی نااہلی، بدانتظامی اور بدترین گورننس کا نتیجہ ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ وہ کون سی غفلت اور کس کی نااہلی ہے جس کی وجہ سے 15سے 16گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ 16گھنٹے گزرنے کے بعد بھی ڈیڈ باڈیز نکالی جا رہی ہیں، 20سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں اور درجنوں افراد تاحال عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے لواحقین باہر کھڑے اپنے پیاروں کی تلاش میں بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں، جبکہ تاجر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا سارا کاروبار جلتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ اگر ایک بڑے شہر میں آگ بجھانے کے لیے ضروری کیمیکلز، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جدید فائر فائٹنگ سہولیات موجود نہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اداروں کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا ہے۔ بدعنوانی نے ہر ادارے کو کھوکھلا کر دیا ہے اور اس کا خمیازہ آج معصوم شہری بھگت رہے ہیں۔
امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے، پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکالا جائے، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس سانحے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کا سانحہ انتہائی دلخراش ہے، ہم جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔