data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے گل پلازہ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میٹروپولیٹن شہر ہے، پاکستان کی معیشت کو چلانے والا میگا سٹی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ 16گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ یہ واضح طور پر حکومتی ناکامی، انتظامی نااہلی، بدانتظامی اور بدترین گورننس کا نتیجہ ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ وہ کون سی غفلت اور کس کی نااہلی ہے جس کی وجہ سے 15سے 16گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ 16گھنٹے گزرنے کے بعد بھی ڈیڈ باڈیز نکالی جا رہی ہیں، 20سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں اور درجنوں افراد تاحال عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے لواحقین باہر کھڑے اپنے پیاروں کی تلاش میں بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں، جبکہ تاجر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا سارا کاروبار جلتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ اگر ایک بڑے شہر میں آگ بجھانے کے لیے ضروری کیمیکلز، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جدید فائر فائٹنگ سہولیات موجود نہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اداروں کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا ہے۔ بدعنوانی نے ہر ادارے کو کھوکھلا کر دیا ہے اور اس کا خمیازہ آج معصوم شہری بھگت رہے ہیں۔

امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے، پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکالا جائے، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس سانحے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کا سانحہ انتہائی دلخراش ہے، ہم جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل دے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق

کراچی:

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے افسوسناک حادثات کے نتیجے میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق بلوچ کالونی کے علاقے کشمیر کالونی نالے والے روڈ پر نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے ایک 20 سالہ راہگیر جاں بحق ہوگیا۔

اطلاع ملنے پر چھیپا کے رضاکار موقع پر پہنچے اور لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا جہاں متوفی کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

دوسرا واقعہ ایف سی ایریا کے ایک اپارٹمنٹ میں پیش آیا جہاں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

چھیپا حکام کے مطابق متوفی کی لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی جہاں اس کی شناخت 40 سالہ اظہر احمد کے نام سے ہوئی۔

ادھر قیوم آباد میں جام صادق پل پر تیز رفتار ٹریلر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

ریسکیو اہلکاروں نے لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا جہاں متوفی کی شناخت 40 سالہ شکیل کے نام سے کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی کی سڑکوں پر دلچسپ تبصرہ، شرمیلا فاروقی اور وسیم بادامی کے درمیان ہلکا پھلکا مکالمہ
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود