شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال، تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بڑا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے غیرجانبدار الیکشن کمیشن کے قیام اور صاف و شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 فروری کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کرتے ہوئے یوم سیاہ منایا جائےگا۔
کراچی پریس کلب میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عوامی مینڈیٹ چھیننے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: 8 فروری کو احتجاج کی کال عمران خان کی طرف سے نہیں، علیمہ خان نے واضح کردیا
اعلامیے کے مطابق سندھ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے جبکہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے میڈیا کی آزادی کو محدود کر دیا گیا ہے۔ کانفرنس میں اپوزیشن جماعتوں نے ججوں کے جبری تبادلوں کی شدید مذمت کی۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات پر عائد پابندی کو غیر آئینی قرار دیا اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنماؤں پر قائم مقدمات کو جھوٹا قرار دے کر ان کی مذمت کی گئی۔
اعلامیے میں صحافیوں کے حقوق پر زور دیتے ہوئے پیکا ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ صحافی مطیع اللہ جان پر درج مقدمات، معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے خلاف کارروائیوں کی بھی مذمت کی گئی۔
اپوزیشن اتحاد نے کہاکہ معاشی استحکام کا دارومدار سیاسی استحکام پر ہے، جبکہ ملک میں ملٹی نیشنل ادارے بند ہونے کے قریب ہیں۔ اعلامیے میں سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور خیبرپختونخوا میں منعقد جرگے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ
پڑوسی ممالک کے حوالے سے اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران پر بھی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، حکومت ممکنہ علاقائی بحرانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمسایہ ممالک کا اجلاس طلب کرے اور غزہ کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پہیہ جام تحریک تحفظ آئین پاکستان شٹر ڈاؤن ہڑتال شفاف انتخابات محمود اچکزئی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پہیہ جام تحریک تحفظ ا ئین پاکستان شٹر ڈاؤن ہڑتال شفاف انتخابات محمود اچکزئی وی نیوز اعلامیے میں تحریک تحفظ کا مطالبہ پہیہ جام
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔