تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے 7 مطالبات، کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے زیر اہتمام کراچی میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس پر کانفرنس میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے دستخط کیے۔ اعلامیہ تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے ترجمان اخنزادہ حسین احمد یوسفزئی نے پڑھ کر سنایا۔ اعلامیہ میں ملک میں آئینی، جمہوری، سیاسی، عدالتی اور معاشی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سات نکاتی مطالبات پیش کیے گئے۔
1: شفاف انتخابات کا مطالبہ
اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان میں آئینی و جمہوری بحالی صرف آزاد اور شفاف انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایک غیر جانبدار نیا چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا جائے، اور ایک بااختیار الیکشن کمیشن کے تحت شفاف انتخابات کرائے جائیں۔
ہوٹل میں ڈائننگ روم تھانہ نماز پڑھنے کیلیے علیٰحدہ کمرہ، تینوں وقت کا کھانا قیدیوں کی طرح لائنوں میں لگ کر کاؤنٹر سے حاصل کر کے کمروں میں بیٹھ کر کھایا جاتا
اعلامیہ میں 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ بدترین دھاندلی کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے انہیں آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سزا دی جائے۔
2:سندھ حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید
اعلامیہ میں سندھ حکومت کی کارکردگی کو مکمل طور پر ناکام قرار دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق کراچی کے علاقے صدر میں گورنرز گل پلازہ میں آتشزدگی، اندرونِ سندھ ڈاکو راج، کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات، بچوں کا کھلے گٹروں میں گر کر جاں بحق ہونا، پانی کی قلت اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں سندھ حکومت کی بدترین ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔
واپس مڑے سب کو آواز دی، جس کو جہاں جگہ ملی سر چھپانے میں عافیّت جانی ”تم میں کوئی مرد نہ تھا وہاں اُنکا مقابلہ کرتے“ شرمندگی مقدّر بن چکی تھی
3: عدلیہ پر حملوں کی مذمت
اعلامیہ میں کہا گیا کہ عدلیہ کے ستون کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ 26ویں اور نام نہاد 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے ججز کے تبادلوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا اور عدلیہ کی آزادی ختم کر دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق باضمیر ججز، جن میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا شامل ہیں، کو ادارے سے علیحدگی پر مجبور کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف کارروائی کو بھی عدلیہ پر دباؤ کی تازہ مثال قرار دیتے ہوئے ان تمام اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔
دنیا بہت سمٹ چکی ہے،ان سے نیاز مندی ہو گئی، عرصہ گزرنے کے باوجود محبتوں کا سلسلہ برقرار ہے،مجھے شام کی مصروفیت اور فٹنس کا بہانہ مل گیا تھا
4:سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ
اعلامیہ میں تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا، جن میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی، سینیٹر اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید، ساجدہ حامد رضا، حسن نیازی، علی وزیر، عبدالصمد اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران شامل ہیں۔
اعلامیہ میں عمران خان سے اہلِ خانہ اور وکلا کی ملاقاتوں پر عائد غیر آئینی پابندیاں فوری ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
5: اظہارِ رائے اور میڈیا پر قدغنیں
’’اتحاد کا مظاہرہ کریں، ہم آپ کے ساتھ ہیں‘‘ آفاق احمد کی گل پلازہ کے متاثرین سے گفتگو
تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے بنائے گئے پیکا قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
اعلامیہ میں صحافی ارشد شریف کے قتل، صحافی مہدی علی جان کے خلاف مقدمات اور میڈیا ورکرز کی برطرفیوں کی بھی شدید مذمت کی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف قائم مقدمات ختم کر کے شفاف ٹرائل یقینی بنایا جائے۔
6: معاشی بحران پر تشویش
اعلامیہ میں کہا گیا کہ معاشی استحکام سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی 44 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے، جبکہ بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
سونے کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 8600روپے اضافہ ہوا
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ سرمایہ کاری تقریباً ختم ہو چکی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان چھوڑ رہی ہیں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور خوف کی فضا کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
7: خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے مطالبات
اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں گرینڈ جرگے کے متفقہ مطالبات پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
ضلع وزیرستان، خصوصاً وانا اور تیراہ میں جاری فوجی آپریشن فوری بند کیا جائے، جبکہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے معاملات میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے۔
اعلامیہ کے اختتام پر کہا گیا کہ یہ تمام مطالبات آئینِ پاکستان، انسانی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہیں۔ ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی، جمہوریت کی بحالی اور عوامی حقوق کا مکمل احترام ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: آئین پاکستان اعلامیہ میں اعلامیہ کے مطالبہ کیا تحریک تحفظ کہا گیا کہ کا مطالبہ کے مطابق کیا گیا چکی ہے
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں