نیوزی لینڈ نے ہوم گراؤنڈ پر بھارت کو تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں بھارت کو شکست دے کر ون ڈے سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی ہے۔

اندور میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں ویرات کوہلی کی 54ویں سنچری کے باوجود بھارت کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 41 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے ساتھ ہی مہمان ٹیم نے 1-2 سے سیریز اپنے نام کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ نے تیسرا ٹیسٹ میچ جیت لیا، 24 سال بعد بھارت کو گھر میں وائٹ واش کا سامنا

میچ میں نیوزی لینڈ کے ڈیرل مچل اور گلین فلپس نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنچریوں پر مشتمل فیصلہ کن شراکت قائم کی، جس نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ دونوں بیٹرز کی ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کے باعث نیوزی لینڈ نے 337 رنز کا بڑا ہدف کھڑا کیا۔

بھارت کی جانب سے ہدف کے تعاقب کا آغاز کمزور رہا، تاہم ویرات کوہلی نے 124 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر ایک بار پھر ٹیم کو مقابلے میں واپس لانے کی کوشش کی۔ ان کی اننگز میں نتیش کمار ریڈی اور ہرشیت رانا کے ساتھ اہم شراکتیں بھی شامل رہیں، جس سے شائقین کو جیت کی امید نظر آنے لگی۔

تاہم نیوزی لینڈ کے بولر زیک فالکس نے بروقت وکٹیں حاصل کر کے بھارتی بیٹنگ کی رفتار توڑ دی اور میچ دوبارہ مہمان ٹیم کے حق میں چلا گیا۔ بھارت مطلوبہ ہدف حاصل نہ کر سکا اور 41 رنز سے میچ ہار گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ 69 سال بعد بھارتی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب

ڈیرل مچل نے کیریئر کی بہترین اننگز کھیلتے ہوئے 137 رنز اسکور کیے، جو بھارت میں ان کی چوتھی سنچری تھی، جبکہ گلین فلپس نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔ اس فتح کے ساتھ نیوزی لینڈ نے ون ڈے سیریز جیت لی۔

اس سیریز کے اختتام کے بعد دونوں ٹیمیں اب 5 میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کھیلیں گی، جو آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں کا حصہ ہو گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بھارت شکست نیوزی لینڈ ون ڈے سیریز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت نیوزی لینڈ ون ڈے سیریز نیوزی لینڈ نے ون ڈے سیریز بھارت کو

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی