بھارت کا اسٹریٹجک ستون ہونے کا دعویٰ متزلزل، فارن افیئرز کا دوٹوک تجزیہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
واشنگٹن/نئی دہلی(نیوز ڈیسک)عالمی میڈیا کے مطابق مئی 2025 کی پاک۔بھارت جنگ کے بعد امریکہ اور بھارت کے تعلقات اپنی تاریخ کے بدترین مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکی جریدے فارن افیئرز کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ سفارتی رویّوں اور فیصلوں نے نئی دہلی کی خارجہ پالیسی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
فارن افیئرز کے مطابق جنگ بندی میں امریکی صدر کے کردار کو پاکستان کی جانب سے سراہا گیا، جبکہ بھارت نے اسے مسترد کرنے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی کامیابی کا بارہا ذکر اور پاکستانی قیادت کے ساتھ غیر معمولی گرم جوشی کو بھارت کے لیے سفارتی سبکی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ متوقع تجارتی معاہدے پر دستخط سے انکار کیا اور بھارتی برآمدات پر بھاری محصولات عائد کر دیے۔ امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باعث واشنگٹن کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا ہے کہ بھارت ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارت معمولی اختلافات پر امریکہ سے فاصلہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک مستحکم اور پراعتماد اسٹریٹجک شراکت دار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پچیس سالہ بھارت۔امریکہ تعلقات کا محض تاثر اور انا کے باعث متزلزل ہونا اس شراکت داری کی ادارہ جاتی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاک۔بھارت جنگ بندی دراصل بھارت کی درخواست پر امریکی مداخلت سے ممکن ہوئی، تاہم نئی دہلی اندرونی سیاسی وجوہات کی بنا پر اس حقیقت کو قبول کرنے سے گریزاں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ امریکی صدر کی ثالثی نہیں بلکہ بیانیے پر کنٹرول کی بھارتی خواہش ہے۔
فارن افیئرز اور دیگر تجزیوں میں اس تضاد کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت ایک طرف امریکی ثالثی کو مسترد کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف چین کے مقابلے میں امریکہ سے غیر مشروط حمایت کا خواہاں ہے، جو دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت کا داخلی عدم تحفظ اس بات کا مظہر ہے کہ وہ خود کو جس حیثیت میں پیش کرتا ہے، عملاً اس مقام پر فائز نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام دوغلی سیاست سے نہیں بلکہ برابری اور حقیقت پسندانہ سفارتی تعلقات سے ہی ممکن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ فارن افیئرز امریکی صدر کے مطابق کرتا ہے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔