ایران کے حالیہ فسادات میں ٹرمپ ذاتی طور پر ملوث ہیں،خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران /واشنگٹن /ریاض/ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں اور مالی نقصان کے اصل ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں کے پیچھے براہ راست امریکی صدر ملوث ہیں‘ حالیہ ایران مخالف بغاوت اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس میں امریکی صدر ذاتی طور پر ملوث تھا۔ ایران نے جی سیون ممالک کا بیان مداخلت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں پرتشدد مظاہروں
میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ ایرانی حکام نے تہران میں جاری احتجاج اور پرتشدد واقعات کے بارے میں کہا ہے کہ مظاہروں کو پرتشدد بنانے میں دہشت گرد عناصر شامل تھے جنہوں نے امریکی اور اسرائیلی مداخلت سے معاونت حاصل کی۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ کچھ بیانات اور اعترافات واضح شہادت ہیں کہ اسرائیلی انٹیلی جنس آپریٹریز مظاہروں میں موجود تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ایران میں 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، اس کا بہت بڑا اثر پڑا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سرگرم ہو گئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی صدر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے فون پر رابطہ کر کے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو خطے میں تمام متعلقہ ریاستوں کے ساتھ تعمیری مکالمے کو فروغ دینے اور ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایران سے متعلق کشیدہ صورتحال پر عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ عدم استحکام کسی بھی خطے میں ترقی کے مواقع کو نقصان پہنچاتا ہے‘ سعودی عرب کا موقف ہمیشہ بات چیت اور مسائل کے پرامن حل کے حصول پر مبنی رہا ہے اور رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کہا ہے کہ ہوئے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔