data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران /واشنگٹن /ریاض/ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں اور مالی نقصان کے اصل ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں کے پیچھے براہ راست امریکی صدر ملوث ہیں‘ حالیہ ایران مخالف بغاوت اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس میں امریکی صدر ذاتی طور پر ملوث تھا۔ ایران نے جی سیون ممالک کا بیان مداخلت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں پرتشدد مظاہروں
میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ ایرانی حکام نے تہران میں جاری احتجاج اور پرتشدد واقعات کے بارے میں کہا ہے کہ مظاہروں کو پرتشدد بنانے میں دہشت گرد عناصر شامل تھے جنہوں نے امریکی اور اسرائیلی مداخلت سے معاونت حاصل کی۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ کچھ بیانات اور اعترافات واضح شہادت ہیں کہ اسرائیلی انٹیلی جنس آپریٹریز مظاہروں میں موجود تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ایران میں 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، اس کا بہت بڑا اثر پڑا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سرگرم ہو گئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی صدر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے فون پر رابطہ کر کے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو خطے میں تمام متعلقہ ریاستوں کے ساتھ تعمیری مکالمے کو فروغ دینے اور ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایران سے متعلق کشیدہ صورتحال پر عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ عدم استحکام کسی بھی خطے میں ترقی کے مواقع کو نقصان پہنچاتا ہے‘ سعودی عرب کا موقف ہمیشہ بات چیت اور مسائل کے پرامن حل کے حصول پر مبنی رہا ہے اور رہے گا۔

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کہا ہے کہ ہوئے کہا

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا