Daily Pakistan:
2026-07-24@06:22:10 GMT

جرمنی جانے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کے لیے اہم خبر

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

جرمنی جانے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کے لیے اہم خبر

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے وزیراعظم آفس میں پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینکا لیپل سے ملاقات کی۔ ملاقات میں نوجوانوں کی تعلیم، مہارتوں کی ترقی اور فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران جرمن سفیر اینکا لیپل نے کہا کہ جرمن حکومت پاکستان سے جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت جرمنی میں تقریباً 6 ہزار پاکستانی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ آئندہ برسوں میں اس تعداد کو بڑھا کر 10 ہزار تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جرمنی پاکستان کے ساتھ تعلیمی، پیشہ ورانہ اور اکیڈمک تبادلوں کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے، خصوصاً ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) کے شعبے میں تعاون کو وسعت دی جائے گی۔

بھارت میں مردہ خاتون آخری رسومات کے دوران زندہ ہو گئیں

اس موقع پر رانا مشہود احمد خان نے جرمن سفیر کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کے اغراض و مقاصد، ماضی کی کامیابیوں، جاری منصوبوں اور آئندہ کے پروگراموں سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور قائدانہ صلاحیتوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے نیشنل یوتھ کونسل کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ کونسل نوجوانوں سے متعلق پالیسی سازی میں مشاورتی کردار ادا کر رہی ہے۔

ملاقات میں گرین یوتھ موومنٹ پر بھی گفتگو ہوئی، جو وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ایک اہم اقدام ہے۔ اس تحریک کا مقصد نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ماحول دوست سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے متحرک کرنا ہے۔جرمن سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے نوجوانوں کی شمولیت، مہارتوں کی ترقی اور روزگار سے متعلق اقدامات کی تعریف کی۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے تعلیم، فنی تربیت، مہارتوں کی ترقی اور یوتھ ایکسچینج پروگرامز میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

میں چاہتی ہوں لاہور قلندرز امریکی کرکٹ کے مستقبل کے ستارے تراشنے میں ہماری مدد کرے، ناٹلی بیکر

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: وزیراعظم یوتھ پروگرام انہوں نے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال