سی ڈی اے کے زیر اہتمام ایف سیون گول مارکیٹ میں کمیونٹی آرگینک مارکیٹ کا انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 18 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز) کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)کے زیر اہتمام ایف سیون گول مارکیٹ میں کمیونٹی آرگینک مارکیٹ کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں خصوصا خاندانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس کمیونٹی آرگینک مارکیٹ کا مقصد شہریوں کو صحت مند، قدرتی اور معیاری اشیائے خورونوش کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صحت مند طرزِ زندگی اور کمیونٹی روابط کو فروغ دینا تھا۔

مارکیٹ میں مختلف آرگینک فوڈ اسٹالز لگائے گئے جبکہ بچوں کے لیے تفریحی اور تعلیمی سرگرمیوں کا خصوصی اہتمام بھی کیا گیا، جس سے والدین اور بچے بھرپور لطف اندوز ہوئے۔اس موقع پر چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد ڈاکٹر انعم فاطمہ نے کہا کہ عوامی نوعیت کے ایسے ایونٹس کا بنیادی اور حقیقی مقصد سماجی روابط کو مضبوط بنانا اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی بیسڈ سرگرمیاں باہمی میل جول، اعتماد اور کمیونٹی اسپرٹ کو فروغ دیتی ہیں، جو کسی بھی صحت مند اور متحرک معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔

شرکا نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف خاندانی تفریح کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ بچوں میں سماجی شعور اجاگر کرنے اور خاندانوں کو ایک محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سی ڈی اے حکام کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیوں کا مقصد شہریوں کو پارکس اور عوامی مقامات کی جانب راغب کرنا ہے تاکہ صحت مند ماحول میں باہمی میل جول کو فروغ دیا جا سکے اور ایک مثبت و متحرک کمیونٹی تشکیل دی جا سکے۔سی ڈی اے نے آئندہ بھی اس نوعیت کی کمیونٹی بیسڈ سرگرمیوں کے انعقاد کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو ایک صحت مند، متحرک اور خاندانی دوست شہر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکراچی میں آگ پر قابو نہیں پاسکتے تو اندرون سندھ کے کیا حالات ہونگے، مفتاح اسماعیل کراچی میں آگ پر قابو نہیں پاسکتے تو اندرون سندھ کے کیا حالات ہونگے، مفتاح اسماعیل عوامی مینڈیٹ چھینے والوں کیخلاف آرٹیکل 6لگایا جائے، تحریک تحفظ آئین کا مطالبہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں اعلی سطح پارلیمانی وفد 19تا 21جنوری کو چین کا تین روزہ دورہ کرے گا پاسکو گندم اسکینڈل میں ملوث زونل ہیڈ سمیت 2 ملزمان گرفتار، گندم کی سینکڑوں بوریاں برآمد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے بھائی کی اہلیہ کے انتقال پر ملک بھر سے تعزیت کا سلسلہ جاری فلسطین امن بورڈ میں پاکستان کوشمولیت کی دعوت عظیم کامیابی ہے، طاہر اشرفی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: مارکیٹ میں سی ڈی اے

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ